Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چینی صدر واشنگٹن میں، ٹرمپ کا طیارے کے قریب جا کر ’غیرمعمولی استقبال‘

چینی صدر شی جن پنگ نے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد امریکہ کا سرکاری دورہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین کے صدر شی جن پنگ کے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود طیارے کے قریب جا کر ان کا استقبال کیا، جسے غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ایسا شاذ ہی دیکھا گیا ہے۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے حکام نے تجارتی جنگ بندی کو جنوری تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں چین کے ساتھ تجارتی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر عائد ٹیکس کم کرنے اور نئی تجارتی پابندیاں نہ لگانے پر اتفاق کیا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ اس سے بڑا معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں، یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم موجودہ معاہدے کو جاری رکھیں گے یا نہیں۔‘
ان کے مطابق تجارتی جنگ بندی میں توسیع سے دونوں رہنماؤں کو نومبر میں چین اور دسمبر میں فلوریڈا میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران اہم معاملات پر بات چیت کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو شی جن پنگ کے خود ایئرپورٹ پر جا کر استقبال سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر چین کے رہنما کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں، شی جن پنگ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار سرکاری دورے پر امریکی دارالحکومت پہنچے ہیں۔
شی جن پنگ کے طیارے کے دروازے کے سامنے سیڑھیوں کے ساتھ 100 فٹ لمبا سرخ قالین بچھایا گیا تھا جس کے دونوں جب 21 رکنی گارڈ آف آنر کے لیے اہلکار بھی موجود تھے۔ صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ طیارے کے قریب کھڑے تھے اور شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان سے ہاتھ ملائے۔
استقبالیہ تقریب میں تینوں فوجی سروسز کے دستوں نے شرکت کی، بی ون طیاروں کی پروازیں بھی ہوئیں جبکہ اس موقع پر دونوں ممالک کے پرچم بھی لگائے گئے تھے اور قومی ترانے بھی پیش کیے گئے۔
صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ سے بات چیت کی، تاہم اس میں کیا بات ہوئی وہ سنائی نہیں دی جبکہ کسی نیوز ادارے نے یا سرکاری طور پر جاری بھی نہیں کی گئی۔
اس وقت موسم نسبتاً گرم تھا اور درجہ حرارت 63 ڈگری فارن ہائٹ (17 سینٹی گریڈ) تھا مگر صدر ٹرمپ دستانے اور اووکورٹ پہنے ہوئے دکھائی دیے، جن پنگ سے ہاتھ ملاتے ہوئے انہوں نے ایک دستانہ اتار دیا تھا۔
ایک موقع پر انہوں نے ہنستے ہوئے چینی صدر کی پیٹھ تھپتھپائی اور کچھ کہا بھی، تاہم کیا کہا اس بارے معلوم نہیں ہو سکا۔
بدھ کی شام کو وائٹ ہاؤس واپس پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ’وہ شاندار لوگ ہیں اور میرے خیال میں استقبال کے لیے ہماری جانب سے اپنائے گئے طریقہ کار کی قدر کرتے ہیں۔‘
امریکہ پہنچنے کے بعد چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ چین اور امریکہ کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کو عظیم اور مضبوط بنانے کی کوشش اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے مقاصد ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’دونوں ممالک ایک دوسرے کی کامیابی میں کردار ادا کر سکتے ہیں جس سے پوری دنیا کو فائدہ ہو گا۔‘

شیئر: