Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے والی افغان سائیکلسٹ، جنہیں ’مرد‘ بن کر پریکٹس کرنا پڑی

فاریبا ہاشمی کو امید ہے کہ ایک روز وہ دوسری خواتین کے ہمراہ کابل کی سڑکوں پر سائیکل چلائیں گی (فوٹو: اے پی)
افغانستان سے تعلق رکھنے والی اس سائیکلسٹ نے ایشیئن گیمز نے چاندی کا تمغہ جیت لیا ہے جس کو ٹریننگ کے لیے مرد کا بھیس بدلنا پڑا تھا۔
 امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے فاریبا ہاشمی کی جدوجہد پر رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جاپان میں آسانی سے چاندی کا تمغہ جیتنے والی سائیکلسٹ کو اپنے ملک میں کئی مشکلات سے گزرنا پڑا تھا۔
ایک ایسے ملک جہاں خواتین کے حقوق انتہائی محدود ہیں، میں کسی لڑکی کا سائیکل چلانا کیسے قبول کیا جا سکتا ہے وہ بچپن سے سائیکل چلاتی آ رہی تھیں مگر جب وہ بڑی ہوئیں تو ایسا ممکن نہیں رہا۔
چونکہ انہیں ایک سابق اتھلیٹ نے بتایا تھا کہ وہ ایک اچھی سائیکلسٹ بننے کا ٹیلنٹ رکھتی ہیں اس لیے انہوں نے سائیکل چلانے کی پریکٹس کرنا چاہی، مگر لوگوں کے ڈر سے حل یہ نکالا کہ وہ مردوں کے کپڑے پہن کر جاتی تھیں اور انہی میں سائیکل چلاتی تھیں، جبکہ بالوں کو بھی اکٹھا کر کے ٹوپی میں چھپا لیتیں۔
اس کا فائدہ یہ تھا کہ ان کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا تھا تاہم جب انہیں لگتا کہ کوئی ان کو پہچان لے گا تو رومال کو چہرے کے نچلے حصے پر یوں لپیٹ لیتیں جیسا کہ عام طور پر افغان لڑکے کرتے ہیں۔
فاریبا ہاشمی کہتی ہیں کہ ان کوششوں کے باوجود بھی چند مواقع ایسے آئے کہ لوگوں کو پتہ چل گیا کہ وہ لڑکی ہیں۔
’جب لوگ پہچان لیتے تو پکڑنے اور پتھر مارنے کی کوشش کرتے تھے۔‘
23 سالہ فاریبا ہاشمی نے منگل کو دو گھنٹے، 50 منٹ اور پانچ سیکنڈ میں چاندی کا تمغہ جیتا۔

فاریبا ہاشمی نے ایشیئن گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا ہے (فوٹو: دی کابل ٹریبیون)

انہوں نے 2021 میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان چھوڑ دیا تھا۔
 ’جب طالبان آئے تو میں اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے ملک سے نکل گئی، میں دنیا کو دکھانا چاہتی تھی کہ افغانستان کی خواتین کو بھی موقع ملے تو وہ سب کچھ کر سکتی ہیں۔‘
فاریبا ہاشمی کے مطابق افغانستان کی خواتین کے لیے ان کے بہت سے خواب ہیں، جن میں ان کے اپنے خواب بھی شامل ہیں۔
’میں بہت خوش اور پرجوش ہوں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے جذبات کا اظہار کیسے کروں۔‘

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد فاریبا ہاشمی نے افغانستان چھوڑ دیا تھا (فوٹو: سائیکلنگ ایونٹ)

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ ایک دن میں اپنے ملک واپس جاؤں گی اور کابل کی سڑکوں پر سائیکل چلاؤں گی اور اس جذبے میں دوسری افغان کو بھی شامل کروں گی۔‘
فاریبا ہاشمی کہتی ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ آنے والے وقت میں چیزیں تبدیل ہوں گی، میرے خیال میں افغانستان کے حالات سے وہاں کے لوگ بھی تنگ آ چکے ہیں جس کا اندازہ طالبان کو بھی ہونے لگا ہے۔
’میں جانتی ہوں کہ ایک عورت کس قدر طاقتور ہو سکتی ہے اور اسی  وجہ سے طالبان خواتین سے خوفزدہ ہیں۔‘

شیئر: