سنہ 1990 کی دہائی میں اگر آپ لندن کے پبز اور کلبز میں جہاں اس دور کا مقبول سوال ’بلر یا اویسس‘ تھا، وہیں کرکٹ گراؤنڈز میں شائقین کے درمیان سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا کا موازنہ موضوعِ بحث بنا رہتا تھا۔
کرکٹ سیب سائٹ ’کرف انفو‘ کے مطابق آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بلے باز کے انتخاب پر یہ بحث جذباتی انداز میں جاری ہے۔ ایک طرف ممبئی کے میدانوں سے سامنے آنے والے سچن ٹنڈولکر تھے جنہوں نے مسلسل رنز کے انبار لگائے اور 200 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے دنیا کے واحد کرکٹر بنے، تو دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے شہر ٹرینیڈاڈ سے تعلق رکھنے والے دلکش انداز میں بیٹنگ کرنے والے برائن لارا تھے۔
برائن لارا 11 بہن بھائیوں میں دسویں نمبر پر تھے۔ ان کا انداز زیادہ آزادانہ تھا اور انہوں نے باقاعدہ کوچنگ کے ساتھ گلی محلوں میں کھیلے جانے والے کھیلوں سے بھی اپنے انداز کو نکھارا۔ اس کے برعکس سچن ٹنڈولکر کی تربیت زیادہ منظم اور روایتی انداز میں ہوئی۔ ان کے کوچ راماکانت اچریکر نے انہیں بنیادی تکنیک اور روایتی انداز میں کھیلنے کی تربیت دی۔
مزید پڑھیں
-
96 کے ورلڈ کپ میں کینیا سے اپ سیٹ شکست اور برائن لارا کی معافیNode ID: 807301
سچن ٹنڈولکر نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’ممبئی کے بڑے میدانوں میں باؤنڈری لگانا آسان نہیں ہوتا تھا اور رنز بنانے کے لیے وکٹوں کے درمیان زیادہ دوڑنا پڑتا تھا، جو تھکا دینے والا عمل تھا۔‘
ان کے مطابق ’تھکن کی صورت میں سب سے پہلے توجہ متاثر ہوتی ہے، اس لیے سکول کے زمانے میں ان میدانوں پر کھیلنے سے مجھے طویل وقت تک توجہ برقرار رکھنے کی عادت پیدا ہوئی۔‘
دونوں بلے بازوں کی مختلف تربیت ان کے کھیل میں بھی نمایاں تھی۔ برائن لارا کا انداز زیادہ جارحانہ اور دلکش تھا جبکہ ٹنڈولکر زیادہ منظم اور محتاط انداز میں کھیلتے تھے۔ ٹنڈولکر ہر گیند سے پہلے روایتی انداز میں بلے کو پچ پر رکھتے تھے، جبکہ لارا کا مخصوص انداز میں بلند بیک لفٹ ان کی بے خوف بیٹنگ کی پہچان تھا۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کے مطابق ’بیٹنگ کے دوران خوبصورتی اور دیکھنے والوں کے لیے خوشی کا باعث بننے والے انداز کی بات کی جائے تو برائن لارا سے زیادہ دلکش کھلاڑی شاید ہی کوئی رہا ہو۔‘
لارا کی صلاحیتوں کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاسکتا کہ انہوں نے دو مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ 375 اور پھر دس سال بعد 400 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں اننگز کو بھی لارا کی پانچ بہترین اننگز میں شمار نہیں کیا جاتا۔
آسٹریلیا کے خلاف لارا کی تاریخی اننگز
سنہ1999 میں آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم صرف 51 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ اس کے بعد جب برائن لارا دوسرے ٹیسٹ کے لیے جمیکا پہنچے تو وہ 21 ماہ سے کوئی ٹیسٹ سنچری نہیں بنا سکے تھے۔
ٹاس کے موقع پر انہوں نے آسٹریلوی کپتان سٹیو وا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاید یہ آخری مرتبہ ہے جب میں ایسا کر رہا ہوں۔‘
پہلے دن کے آخری حصے میں جب لارا بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو ویسٹ انڈیز کے دو کھلاڑی صرف پانچ رنز پر آؤٹ ہوچکے تھے اور جلد ہی ٹیم 34 رنز پر چار وکٹیں گنوا بیٹھی۔
لارا کو میدان میں شائقین کی جانب سے تنقید اور ہوٹنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا، جبکہ ان کی دائیں کہنی میں ہڈی کی چوٹ نے مشکلات مزید بڑھا دی تھیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے پاس کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بولنگ اٹیک میں سے ایک موجود تھا، جس میں گلین میک گرا اور شین وارن کے ساتھ فاسٹ بولر جیسن گلیسپی اور لیگ سپنر سٹورٹ میک گل شامل تھے۔
اس کے باوجود لارا نے دوسرے روز بھی اپنی بیٹنگ جاری رکھی اور 213 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ویسٹ انڈیز کو شکست کے دہانے سے نکال کر یادگار فتح دلا دی۔

کیریبین کرکٹ کے معروف کمنٹیٹر ٹونی کوزیئر کے نزدیک یہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کی تاریخ کی سب سے اہم اننگز تھی۔ خود لارا کے مطابق، اس وقت جس دباؤ اور ذہنی کیفیت سے وہ گزر رہے تھے، اس اننگز نے انہیں اپنی انفرادی صلاحیت اور مضبوطی کا احساس دلایا۔
یہ اننگز اگلے ٹیسٹ میچ میں اس سے بھی زیادہ غیر معمولی کارکردگی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
بارباڈوس میں 153 رنز کی ناقابل شکست اننگز
بارباڈوس میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں ویسٹ انڈیز کو کامیابی کے لیے 308 رنز کا ہدف ملا۔ برائن لارا 78 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد بیٹنگ کے لیے آئے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی چوتھی اننگز میں ہدف کا تعاقب ایک منفرد اہمیت رکھتا ہے۔ اس مرحلے پر بلے بازوں کو معلوم ہوتا ہے کہ جیت کے لیے کتنے رنز درکار ہیں، لیکن انہیں ایسی پچ پر بیٹنگ کرنا ہوتی ہے جو عموماً میچ کے آخری دن تک خراب ہوچکی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ تاریخ کا دباؤ بھی موجود ہوتا ہے۔
پانچویں روز کا کھیل شروع ہونے سے پہلے لارا دو رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ نیند نہ آنے کے باعث انہوں نے اپنے ایک پرانے دوست کو ہوٹل کے کمرے میں بلایا اور دونوں نے 1993 میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف ان کی 277 رنز کی اننگز اور چند ہفتے قبل جمیکا میں کھیلی گئی ڈبل سنچری کی ویڈیوز دیکھیں۔
لارا نے اس دوران رنز بنانے کی حکمت عملی تیار کی اور فیصلہ کیا کہ کس بولر کے خلاف دفاع کرنا ہے اور کس کے خلاف جارحانہ انداز اپنانا ہے۔
انہوں نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی اننگز کا منصوبہ بنایا۔ فیصلہ کیا کہ پہلے گھنٹے میں فاسٹ بولرز کے خلاف محتاط رہیں گے اور اس کے بعد سپنرز کے خلاف حملہ کریں گے۔
لارا نے میدان میں بھی اسی منصوبے پر عمل کیا۔ انہوں نے سٹورٹ میک گل کے پہلے ہی اوور میں تین چوکے لگائے اور پھر شین وارن کی گیند پر ایسا چھکا مارا جو بارباڈوس کے سٹیڈیم کی چھت پر جا گرا۔
لارا کو ایک بار پھر اپنے ساتھی بلے بازوں کی جانب سے خاطر خواہ مدد نہ مل سکی۔ جمی ایڈمز کے 38 رنز کے علاوہ کوئی دوسرا بلے باز نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا۔
238 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم 248 رنز پر آٹھ وکٹیں گنوا بیٹھی اور اسے جیت کے لیے مزید 60 رنز درکار تھے۔
لارا کے مطابق اس مشکل صورت حال میں بھی انہوں نے جیت کا یقین نہیں کھویا۔ ان کی کوشش تھی کہ اوور کے ابتدائی حصے میں باؤنڈریز حاصل کریں، خصوصاً سپنرز کے خلاف، تاکہ آخری نمبر کے بلے باز کرٹلی ایمبروز کو ہر اوور میں زیادہ سے زیادہ دو گیندیں کھیلنی پڑیں۔

ایمبروز کے آؤٹ ہونے کے بعد کورٹنی والش میدان میں اترے، جنہیں ٹیل اینڈر کے طور پر بیٹنگ میں زیادہ مہارت حاصل نہیں تھی۔ ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے صرف چھ رنز درکار تھے، جبکہ والش کو چار گیندیں کھیلنا تھیں۔
لارا ہر گیند سے پہلے ان کے پاس جاتے اور انہیں مشورہ دیتے رہے۔
سکور برابر ہونے کے بعد لارا کو جیسن گلیسپی کا سامنا تھا۔ بارباڈوس کے کینسنگٹن اوول میں موجود شائقین ان کا نام لے کر نعرے لگا رہے تھے۔ لارا نے گیند کو ایکسٹرا کور کی جانب زوردار شاٹ کھیل کر باؤنڈری کے پار پہنچا دیا۔
اس کے بعد وہ دونوں بازو بلند کرکے دوڑنے لگے اور شائقین خوشی سے میدان میں داخل ہوگئے۔
لارا کے آؤٹ ہونے سے پہلے ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے 308 رنز کا ہدف حاصل کرلیا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کامیابی کے ساتھ حاصل کیا جانے والا دوسرا سب سے بڑا ہدف تھا۔ اس تاریخی فتح میں برائن لارا کی 153 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز فیصلہ کن ثابت ہوئی، جس نے انہیں ٹیسٹ کرکٹ کی عظیم ترین اننگز کھیلنے والے بلے بازوں میں شامل کردیا۔
لارا کی 153 رنز کی ناقابل شکست اننگز کو ٹیسٹ کرکٹ کی چوتھی اننگز میں کھیلی گئی عظیم ترین اننگز میں شمار کیا جاتا ہے اور خود ان کے کیریئر کی بہترین اننگز قرار دیا جاتا ہے۔
سچن ٹنڈولکر کی پاکستان کے خلاف 136 رنز کی اننگز
لارا کی طرح سچن ٹنڈولکر نے بھی اپنے کیریئر کے ابتدائی حصے میں ایک ایسی ٹیم کے لیے بیٹنگ کی جو مشکلات سے دوچار تھی۔
سنہ 1989 سے 2000 کے دوران اپنے ابتدائی 44 بیرون ملک ٹیسٹ میچوں میں ٹنڈولکر نے 13 سنچریاں بنائیں اور ان کی اوسط 53.57 رہی، لیکن انڈیا ان مقابلوں میں سے صرف ایک میچ جیت سکا۔
لارا کی بارباڈوس میں 153 رنز کی ناقابل شکست اننگز سے دو ماہ قبل ٹنڈولکر نے پاکستان کے خلاف چنئی ٹیسٹ میں تقریباً ایسی ہی صورت حال کا سامنا کیا تھا۔
چوتھی اننگز میں 271 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے انڈیا نے صرف چھ رنز پر دو وکٹیں گنوا دی تھیں۔ شدید گرمی، کمر میں تکلیف اور پاکستان کے مضبوط بولنگ اٹیک کے باوجود ٹنڈولکر نے شاندار بیٹنگ کی۔

انہوں نے روایتی اور ریورس سوئنگ کے خلاف مختلف انداز میں ڈرائیوز کھیلیں اور سپن بولر ثقلین مشتاق کے ایک اوور میں چار چوکے بھی لگائے۔
ٹنڈولکر نے 136 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ ان کے دیگر ساتھی بلے باز مجموعی طور پر صرف 86 رنز بنا سکے۔
وہ انڈیا کو فتح سے صرف 17 رنز دور چھوڑ کر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد انڈین ٹیم شکست سے دوچار ہوگئی۔
لارا نے اس کے دو ماہ بعد بارباڈوس میں 153 رنز ناٹ آؤٹ بنائے، یعنی دونوں اننگز کے درمیان صرف 17 رنز کا فرق تھا۔
’کرکٹ منتھلی‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں سدھارتھ ویدیا ناتھن نے ان دونوں اننگز کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’17 رنز، 153 اور 136 کے درمیان وہ معمولی فرق ہے جہاں عظمت چھپی ہوتی ہے۔‘
ٹنڈولکر پر ایک ارب لوگوں کی توقعات کا دباؤ
16 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھنے والے سچن ٹنڈولکر نے اپنے پورے کیریئر میں غیر معمولی توجہ اور دباؤ کا سامنا کیا۔ ان کے لیے دن کے وقت باہر نکلنا بھی مشکل ہوتا تھا، سوائے اس کے کہ وہ کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان کا رخ کریں۔
ٹنڈولکر کے مطابق انہیں اس بات سے خوشی ہوتی تھی کہ لوگ ان سے توقعات رکھتے ہیں اور انہوں نے کبھی ان توقعات کو اپنے لیے بوجھ نہیں سمجھا۔
اس کے برعکس برائن لارا کے کندھوں پر ایک ارب انڈینز کی امیدوں کا بوجھ نہیں تھا، بلکہ وہ ویسٹ انڈیز کی عزت اور وقار کے لیے کھیلتے تھے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف ڈان بریڈمین اور جارج ہیڈلی ایسے بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کے مجموعی رنز میں لارا سے زیادہ تناسب کے ساتھ حصہ ڈالا۔
اعداد و شمار میں کون آگے ہے؟
سچن ٹنڈولکر کی کامیابی کا ایک اہم راز ان کی تکنیک میں مسلسل بہتری اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت تھی۔
سنہ 2003 اور چار میں آسٹریلیا کے دورے پر خراب کارکردگی کے بعد انہوں نے سڈنی میں آخری ٹیسٹ میچ کے لیے فیصلہ کیا کہ وہ کور ڈرائیو نہیں کھیلیں گے۔
انہوں نے اپنے اس فیصلے پر مکمل عمل کیا اور 241 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جس میں سے 188 رنز لیگ سائیڈ پر بنائے گئے تھے۔
مجموعی ٹیسٹ اوسط میں ٹنڈولکر لارا سے ایک رن آگے تھے، لیکن اگر بنگلہ دیش اور زمبابوے کے خلاف میچوں کو نکال دیا جائے تو لارا کی اوسط 52.53 جبکہ ٹنڈولکر کی 51.01 رہ جاتی ہے۔
یہاں تک کہ اگر ٹنڈولکر سنہ 2011 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوجاتے اور مزید دو سال نہ کھیلتے تو ان کی مجموعی اوسط 56.94 ہوتی، جبکہ بنگلہ دیش اور زمبابوے کے خلاف میچوں کو نکالنے کے بعد یہ اوسط 53.97 بنتی۔
ٹنڈولکر اپنے زیادہ تر کیریئر میں چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے رہے، جبکہ لارا تیسرے نمبر پر کھیلتے ہوئے زیادہ کامیاب رہے۔ انہوں نے 45 ٹیسٹ میچوں میں تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 60.46 کی اوسط سے رنز بنائے۔
یہ فرق بھی لارا کے حق میں جاتا ہے، کیونکہ 1945 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی اوسط چوتھے نمبر پر کھیلنے والے بلے بازوں سے 2.5 رنز کم رہی ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف دونوں کا ریکارڈ
دونوں بلے بازوں نے اپنے کیریئر میں آسٹریلیا کے خلاف بھی شاندار کارکردگی دکھائی، جو اس دور کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھی۔
لارا نے آسٹریلیا کے خلاف 51 کی اوسط سے نو سنچریوں کی مدد سے رنز بنائے، جبکہ ٹنڈولکر نے 55 کی اوسط سے 11 سنچریاں سکور کیں۔

آسٹریلیا کی سرزمین پر فاسٹ بولنگ کے خلاف ٹنڈولکر نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور وہاں ان کی اوسط 53.2 رہی، جبکہ باؤنسی پچوں پر لارا کی اوسط نسبتاً کم، 41.97 تھی۔
آسٹریلیا کے سابق لیگ سپنر شین وارن ٹنڈولکر کو قدرے بہتر بلے باز سمجھتے تھے، جبکہ سابق فاسٹ بولر گلین میک گرا کی ترجیح برائن لارا تھے۔
سپن کے خلاف لارا کا کوئی ثانی نہیں؟
اگر فاسٹ بولنگ کھیلنے کی بات کی جائے تو ٹنڈولکر کو برتری حاصل تھی، لیکن سپن بولنگ کے خلاف برائن لارا کو کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں سپن بولرز کے خلاف لارا کی اوسط 82.52 رہی، جبکہ ان کا سٹرائیک ریٹ 65 تھا۔
شین وارن کے خلاف ان کی اوسط 71.57 اور متھیا مرلی دھرن کے خلاف 124 رہی۔
لارا کے مطابق بہت سے بلے باز گیند پچ پر پڑنے کے بعد اس کی سمت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ بولر کے ہاتھ سے گیند نکلتے ہی یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ گیند کس سمت میں جائے گی۔
کپتانی میں دونوں کی کارکردگی
دونوں بلے بازوں کی بیٹنگ جتنی شاندار تھی، بطور کپتان ان کی کارکردگی اتنی متاثر کن نہیں رہی۔
سچن ٹنڈولکر نے 25 ٹیسٹ میچوں میں انڈین ٹیم کی قیادت کی، جن میں سے صرف چار میں کامیابی حاصل کرسکے۔ برائن لارا نے 47 ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈیز کی کپتانی کی اور 10 میچ جیتے، جبکہ کپتانی کے دوران ان کی بیٹنگ اوسط 57.83 رہی۔
تاہم لارا کی قائدانہ صلاحیتوں پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے۔ جب انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور کا ریکارڈ دوبارہ اپنے نام کیا اور چار سو رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تو اس پر بھی تنقید ہوئی کہ انہوں نے اتنی طویل اننگز کھیل کر ویسٹ انڈیز کی میچ جیتنے کی امیدوں کو کم کردیا تھا۔
مجموعی کارکردگی میں ٹنڈولکر کی برتری
ایک مکمل بلے باز کے طور پر سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ برائن لارا کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور ہر لحاظ سے بہتر دکھائی دیتا ہے۔
ٹنڈولکر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے ملک میں کھیلنے کے مقابلے میں بیرون ملک زیادہ کامیاب رہے۔ انہوں نے جن 10 ممالک میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلی، ان تمام میں ان کی اوسط کم از کم 40 رہی۔
اس کے برعکس لارا کی اوسط انڈیا اور نیوزی لینڈ میں 40 سے کم رہی، اگرچہ انڈیا میں انہوں نے صرف تین ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔
ٹنڈولکر کی لارا پر سب سے بڑی برتری ان کے رنز اور طویل کیریئر کے اعداد و شمار ہیں۔

انہوں نے 200 ٹیسٹ میچ کھیلے، جو لارا کے مقابلے میں 69 زیادہ ہیں۔ ان کے 15 ہزار 921 رنز اور 51 سنچریوں کا ریکارڈ بھی آج تک برقرار ہے۔ لارا نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 34 سنچریاں سکور کی تھیں۔
لارا کے سابق ساتھی جمی ایڈمز نے اپنی کتاب ’دی آرٹ آف بیٹنگ‘ میں لکھا تھا کہ برائن بعض اوقات کھیل سے اکتا جاتے تھے، لیکن سچن کبھی بھی کرکٹ سے نہیں اکتاتے تھے۔
ڈان بریڈمین بھی ٹنڈولکر کے مداح تھے
ٹنڈولکر کی بیٹنگ کی مکمل تکنیک اور کھیل کے ہر پہلو پر گرفت کو کرکٹ کے عظیم ترین بلے باز ڈان بریڈمین نے بھی سراہا تھا۔
سنہ 1996 میں بریڈمین نے ٹنڈولکر کو بیٹنگ کرتے دیکھا تو اپنی اہلیہ کو بلایا اور کہا کہ انہوں نے خود کو کھیلتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، لیکن انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ نوجوان بلے باز بالکل ان ہی کے انداز میں کھیل رہا ہے۔
بریڈمین کے مطابق ٹنڈولکر کے شاٹس، ان کی تکنیک اور بیٹنگ میں توازن انہیں اپنے کھیل کی یاد دلاتا تھا۔
تاہم ٹنڈولکر کی سب سے غیر معمولی خوبی صرف ان کی تکنیک یا جسمانی صلاحیت نہیں بلکہ ان کا طویل کیریئر تھا۔
کرکٹ میں کئی کھلاڑی کم عمری میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو عمر بڑھنے کے باوجود اسی معیار کی کارکردگی برقرار رکھ سکیں۔ ٹنڈولکر ان دونوں خوبیوں کے حامل تھے۔
سنہ 1990 میں اپنی 17ویں سالگرہ کے کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے اولڈ ٹریفورڈ میں انگلینڈ کے خلاف میچ بچانے والی سنچری بنائی۔ 19 سال کی عمر تک وہ جنوبی افریقہ میں بھی سنچری بنا چکے تھے اور آسٹریلیا میں دو سنچریاں سکور کر چکے تھے۔
سنہ 2010 میں، جب وہ 37 سال کے ہوئے، ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے۔ اس سال انہوں نے سات سنچریاں بنائیں اور ان کی اوسط 78.1 رہی۔
اپنے 24 سالہ ٹیسٹ کیریئر کے آخری چند برسوں کے علاوہ تقریباً پورے عرصے میں ٹنڈولکر کی موجودگی انڈین ٹیم کو مضبوط بناتی رہی۔













