پاکستانی کپتان بابر اعظم کو امید ہے کہ ازسرِنو تشکیل دی گئی پاکستانی ٹیم پیر سے راولپنڈی میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف نئی شروعات کرے گی۔ یہ سیریز انگلینڈ کے خلاف بدترین شکست کے بعد پاکستان کی پہلی ٹیسٹ سیریز ہے۔
دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل اس سیریز سے قبل پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں 3-0 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دورے کے دوران دوسرے ٹیسٹ کے بعد سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔
ستمبر میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے دوران ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو ٹیسٹ سیٹ اپ کا حصہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں
-
کیا محمد عامر انڈین پریمیئر لیگ 2027 میں شرکت کریں گے؟Node ID: 910052
گھر واپس بھیجے گئے سات کھلاڑیوں میں سے صرف سلمان آغا اور عامر جمال کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ایجبسٹن میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ کی پلیئنگ الیون کے پانچ کھلاڑی بھی ڈراپ کر دیے گئے ہیں۔
سینیئر وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، سابق کپتان شان مسعود اور سپنرز ساجد خان اور نعمان علی ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔
محمد طحہ، سعد بیگ، طیب عارف، سمیر منہاس، ثاقب خان اور علی شبیر کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
بابر اعظم نے اتوار کو کہا کہ ’انگلینڈ سیریز کے دوران ہی ہم نے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا منصوبہ بنایا تھا، اس لیے میں ان نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوں۔‘
بابر اعظم اپنی بیٹنگ فارم بحال کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔ وہ گزشتہ 40 ٹیسٹ اننگز سے سینچری بنانے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی آخری ٹیسٹ سینچری دسمبر 2022 میں کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف سامنے آئی تھی۔
Pakistan's updated Test squad for the two-match series against Sri Lanka #PAKvSL | #PakistanCricket https://t.co/wMmkX8z8LH
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) November 7, 2026
جولائی میں دوبارہ کپتان بنائے جانے والے بابر نے کہا کہ ’میں نے کچھ ڈومیسٹک میچ کھیلے ہیں اور میرا خیال ہے کہ جتنا زیادہ کھیلوں گا اتنی بہتری آئے گی، اس لیے میں پُراعتماد ہوں۔‘
یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے چوتھے سائیکل کا حصہ ہے۔ اس وقت پاکستان نویں اور آخری جبکہ سری لنکا ساتویں نمبر پر موجود ہے۔ دوسرا ٹیسٹ 17 نومبر سے لاہور میں کھیلا جائے گا۔
سری لنکا بھی اپنی ٹیسٹ ٹیم میں تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ وائٹ بال کپتان کُسل مینڈس نے گزشتہ ماہ دھننجیا ڈی سلوا کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی۔
مینڈس نے کہا کہ ’یہ میرے لیے پُرجوش لمحہ ہے اور میں ٹیم کی قیادت پر خوش ہوں۔ ہمارے پاس تجربہ کار بیٹنگ لائن اپ موجود ہے، اس لیے ہم اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔‘












