Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب پر حملوں کے بعد سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ میں اہم بات چیت

وزرائے خارجہ نے مکہ  اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت جاری کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ ان کی سرگرمیوں کے آغاز کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے مکہ  اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور مملکت کی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ضروری سمجھے جانے والے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
تینوں وزرائے خارجہ نے تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے انتظامات پر بھی بات کی۔ اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق کے خلاف جارحیت تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کی جائے گی۔
ملاقات میں خطے کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی قانون، اچھے ہمسایہ تعلقات، ریاستوں کی خودمختاری اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سمندری راستوں میں جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے، کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور جاری بحرانوں کے پرامن حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شیئر: