’جنسی زیادتی اور می ٹُو تحریک‘، ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کو 15 برس قید کی سزا
’جنسی زیادتی اور می ٹُو تحریک‘، ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کو 15 برس قید کی سزا
جمعرات 24 ستمبر 2026 6:35
ہاروی وائن سٹائن پر الزامات کے بعد عورتوں کے جنسی استحصال کے خلاف تحریک نے دنیا بھر میں زور پکڑا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’بدنامِ زمانہ‘ امریکی فلم پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کو 2006 میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے جُرم میں دوبارہ 15 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
74 سال کے وائن سٹائن پر درجنوں خواتین نے جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے الزامات لگائے تھے۔ ان الزامات کے بعد #MeToo تحریک دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’پلپ فِکشن‘ اور ’شیکسپیئر اِن لَو‘ جیسی فلمیں پروڈیوس کرنے والے وائن سٹائن نے 2006 میں سابق پروڈکشن اسسٹنٹ میریم ہیلی کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
انہیں 2020 میں اسی جُرم میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم 2024 میں اپیل کے بعد یہ سزا ختم کر دی گئی۔ 2025 میں دوبارہ مقدمہ چلایا گیا اور انہیں ایک بار پھر مجرم قرار دیا گیا۔
بدھ کو عدالت میں وائن سٹائن نے جج سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک پُرتشدد شخص نہیں ہوں، مجھ پر رحم کیا جائے۔‘
انہوں نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ وہ ان افراد سے معذرت کرتے ہیں جنہیں اُن کی وجہ سے تکلیف پہنچی، تاہم انہوں نے ایک بار پھر اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا۔
جج کرٹس فاربر نے وائن سٹائن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تاحال اپنے جُرم کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
میریم ہیلی نے عدالت کے فیصلے کے بعد کہا کہ ’میرے خیال میں وائن سٹائن کو سنائی گئی 15 سال کی سزا مناسب ہے اور میں اِس فیصلے سے مطمئن ہوں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’وائن سٹائن کے جنسی حملے کے بعد انہیں شدید ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور اس واقعے نے اُن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔‘ #MeToo تحریک
وائن سٹائن کبھی ہالی وڈ کے بہت طاقتور فلم پروڈیوسر سمجھے تھے اور وہ اداکاروں کے کیریئر پر بھی کافی اثر انداز ہوتے تھے۔
ایک دوسرے مقدمے میں اداکارہ جیسیکا مان نے بھی وائن سٹائن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بعد میں ’دی نیو یارکر‘ اور ’دی نیو یارک ٹائمز‘ نے اُن کے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات پر تحقیقات شائع کیں۔ اس کے بعد 80 سے زیادہ افراد نے ان پر مختلف الزامات عائد کیے۔
اِن واقعات کے بعد 2017 میں امریکہ میں جنسی ہراسانی اور عورتوں کے جنسی استحصال کے خلاف شروع ہونے والی #MeToo تحریک نے دنیا بھر میں زور پکڑا۔
وائن سٹائن کو کیلیفورنیا میں بھی دوبارہ سزا سنائی جائے گی۔ یہ کیس 2013 میں لاس اینجلس کے ایک ہوٹل کے کمرے میں ایک اداکارہ کے ساتھ ریپ اور جنسی زیادتی سے متعلق ہے۔
جُون میں ایک عدالت نے وائن سٹائن کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم اُن کی 16 سال قید کی سزا ختم کر دی، لہٰذا اب انہیں دوبارہ سزا سنائی جائے گی۔
ایک دوسرے مقدمے میں اداکارہ جیسیکا مان نے بھی وائن سٹائن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا، تاہم جیوری اس کیس میں کسی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی۔ بعد میں استغاثہ نے کہا کہ وہ اس کیس میں دوبارہ مقدمہ نہ چلانے کا اعلان کیا۔