Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پرائیوٹائز کیے جانے والے شعبوں کے ملازمین کے لیے نئے قواعد کی منظوری

پرائیوٹائزیشن کے بعد کارکنوں کی مدت ملازمت منقطع تصور نہیں کی جائے گی (فوٹو، ایکس)
نیشنل سینٹرفارپرائیوٹائزشن نے وزراء کونسل کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے نجی کاری کے لیے منتخب کیے گئے شعبوں میں ملازمین اور کارکنوں سے متعلق قواعد میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
عکاظ اور الوطن اخبار کے مطابق کابینہ کی قرار داد نمبر 318 کے حوالے سے سرکاری گزٹ ’ام القری‘ نے تفصیلات جاری کی ہیں جن میں قوانین اور انتظامات کی منظوری دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت میں تبدیلی اور نجکاری کے لیے مخصوص کیے گئے شعبوں کے ملازمین اور کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کس طرح کیا جائے۔
کی جانے والی نئی ترامیم میں کہا گیا ہے کہ  ملازمت کی مدت کو (تبدیلی یا ٹرانسفرکے بعد) مسلسل مدت تصور کیا جائے گا، نجکاری کے بعد اسے منقطع نہیں سمجھا جائے گا۔
اس قانون کا اطلاق ملازمت کے اختتام اور باقی ماندہ چھٹیوں پر بھی کیا جائے گا۔
مالی ذمہ داریاں سابق اور نئی انتظامیہ کے درمیان تقسیم ہوں گی۔ سابق ادارہ ملازم کی منتقلی سے قبل اس کے پاس گزاری گئی مدت کے مطابق واجبات ادا کرے گا، جبکہ نئی انتظامیہ منتقلی کے بعد کی مدت کے مالی امور کی ذمہ دار ہوگی۔
ملازمین کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے ترمیم شدہ ضوابط میں یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ملازمت کے اختتام پر تمام واجبات جن میں چھٹیوں کے بقایاجات بھی شامل ہیں کا حساب ملازم کو ملنے والی آخری تنخواہ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔
ترامیم میں قومی مرکز برائے نجکاری ، وزارتِ خزانہ اور انسانی وسائل و سماجی ترقی کے درمیان مشترکہ طریقہ واضع کیا گیا ہے۔ واجبات کے باہمی تصفیے اور ادائیگی کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔
خیال رہے قومی مرکز برائے نجکاری کی جانب سے 17 شعبوں کو نجکاری کے لیے منتخب کیا گیا ہے جن میں صحت، تعلیم ، ماحولیات پانی و زراعت، بلدیات، ہاوسنگ ، توانائی، صنعت ومعدنی وسائل، پبلک ٹرانسپورٹ، داخلہ ، ٹیلی کمیونیکیشن، حج وعمرہ، افرادی قوت، ٹرانسپورٹ، سپورٹس ، میڈیا، مالیات اور رئیل سٹیٹ اتھارٹی شامل ہیں۔

شیئر: