Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصر ابو جفان جسے بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کے حکم پر تعمیر کیا گیا

قصر سے تجارتی قافلوں کی نگرانی اور حفاظت کی جاتی تھی ( فوٹو: ایس پی اے)
الخرج کمشنری میں واقع تاریخی قصر ابوجفان العارض کے لیے ایک تاریخی گیٹ وے اور الاحسا کے قافلوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق یہ قصر مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر سالِ ہجری 1366 میں تعمیر کیا گیا تھا جو اس دور کی سکیورٹی اور سرکاری عمارتوں کے ورثے کا ایک ثبوت ہے۔
یہ قصر تجارتی قافلوں کی نگرانی، حفاظت اور قافلوں کے قیام کے علاوہ سامان کی ترسیل کے لیے ایک سٹریٹیجک مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔
الدھنا صحرا سے گزرنے والے اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے لایا جانے والا سامان پہلے اس قصر میں جمع کیا جاتا اور وہاں سے ریاض جانے والی گاڑیوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔
الخرج سے تقریباً 40 کلومیٹر مشرق کی جانب الخرج، حرض شاہراہ پر یہ قصر واقع ہے۔ یہاں سے ایک راستہ شمال مشرق کی جانب جاتا ہے جسے ’مزالیج‘ کہا جاتا ہے۔

قصر ابو جفان جس علاقے میں ہے اسے ’العرمہ‘ کہا جاتا ہے، یہاں پہاڑی سلسلے، غاریں اور وادیاں موجود ہیں۔
ارد گرد کی وادیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک بلند ٹیلے پر تعمیر کیے جانے والا یہ قصر دو منزلہ ہے۔ اس کی تعمیر میں دفاعی اور رہائشی طرز تعمیر کا امتزاج ملتا ہے۔
اس کے چاروں کونوں پر دفاعی ٹاورز قائم ہیں جہاں تیر اندازوں کے لیے خصوصی محرابیں اور مخصوص سوراخ بھی بنائے گئے ہیں جہاں تیر انداز محفوظ رہتے ہوئے دشمن پر تیر برسا سکتے تھے۔

قصر کے اندرونی حصے میں دو اہم حصے ہیں جو گراؤنڈ فلور، صحن اور چھت پر مشتمل ہیں۔ ان تک رسائی کے لیے مشرقی اور شمالی داخلی راستے ہیں۔
زمانۂ امن میں یہ قصر مسافروں اور آنے والے مہمانوں کے قیام کے لیے استعمال ہوتا تھا جہاں وسیع کمرے اور مہمانوں کے لیے متعدد مجالس تھیں۔
اس قصر کا نام قریب واقع قدیم آبی چشمے اور کنویں ’ابو جفان‘ کی نسبت سے رکھا گیا۔ اس کے عقب میں ’القموص‘ نامی قدیم کنواں بھی موجود ہے جہاں سے ڈول کے ذریعے پانی نکال کر آبی ضروریات کو پورا کیا جاتا تھا۔ آج بھی یہ قدیم کنواں اس مقام پر پانی کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق شاہ عبدالعزیز نے 1319 سال ہجری میں کویت سے ریاض کے سفر کے دوران حرض سے گزرنے کے بعد ابوجفان کے کنوؤں کے قریب قیام کیا تھا۔ 
قصر ابو جفان محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ شاہ عبدالعزیز کی قیادت میں مملکت کے اتحاد اور قومی عزم کی تاریخ کا گواہ بھی ہے۔

 

شیئر: