Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سندھ کے ساحل پر پہلی بار‘، کراچی کے قریب 45 فٹ لمبی نایاب سپرم وہیل کی آمد

کراچی کے ساحل سے دور سمندر میں ایک نایاب ’سپرم وہیل‘ کی موجودگی کا پہلا دستاویزی ثبوت سامنے آنے کے بعد تحفظِ ماحول کی عالمی تنظیم ’ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان‘نے بحیرہ عرب میں سمندری حیات کی بقا کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق کراچی سے قریباً 40 ناٹیکل میل (نزدیک 74 کلومیٹر) جنوب مغرب میں ایک مہم کے دوران 45 فٹ طویل ’سپرم وہیل‘کو دیکھا گیا۔ یہ سندھ کے ساحلی پانیوں میں اس نایاب نوع کی موجودگی کا پہلا ریکارڈ شدہ مشاہدہ ہے۔ اس سے قبل اس نوع کو صرف بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے قریب دیکھا گیا تھا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ ممبر زاہد میکر نے اس سفر کے دوران وہیل کی فوٹیج بھی ریکارڈ کی۔ اس فوٹیج میں سپرم وہیل کی مخصوص خصوصیات جیسے کہ سانس لینے کا سوراخ (بلو ہول)، جلد کے نشانات اور اس کا ابھرا ہوا کوہان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سپرم وہیل گہرے سمندر میں غوطہ لگانے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں اور یہ خوراک کی تلاش میں معمول کے مطابق 300 سے 800 میٹر اور بعض اوقات ایک سے دو کلومیٹر کی گہرائی تک اتر جاتی ہیں۔ ان کی بنیادی خوراک مختلف قسم کے سکویڈ اور آکٹوپس ہوتے ہیں جو کہ پاکستان کے سمندری حدود میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق بحیرہ عرب میں موجود اس نادر حیات کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنا، تیز رفتار بحری جہازوں سے ٹکراؤ اور پھیلتی ہوئی سمندری آلودگی ان سمندری ممالیہ کی بقا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینیئر ڈائریکٹر رب نواز کا کہنا تھا ’پاکستان کے سمندری پانی غیر معمولی سمندری حیات کے مسکن ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کے بارے میں معلومات اور دستاویزات محدود ہیں۔ بڑی وہیل کی موجودگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے سمندری نظام کو کتنی حفاظت کی ضرورت ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ سمندری ماحول پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے پائیدار ماہی گیری اور اجتماعی تحفظاتی کارروائیوں کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان میں 26 انواع کا سراغ
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے سمندری حدود میں اب تک وہیل اور ڈولفن کی 26 مختلف انواع کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ ان میں بلیو وہیل، برائیڈز وہیل اور بحیرہ عرب کی ہمپ بیک وہیل شامل ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اہم دریافتوں سے پاکستان کے پانیوں کی حیاتیاتی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اگر ذمہ دارانہ اقدامات نہ کیے گئے تو بحیرہ عرب میں ان شاندار سمندری مخلوقات کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

شیئر: