غزہ کی ’دیسی ٹربائنز‘، جو ملبے کو توانائی کے ذرائع میں بدل رہی ہیں
غزہ کی ’دیسی ٹربائنز‘، جو ملبے کو توانائی کے ذرائع میں بدل رہی ہیں
جمعرات 5 نومبر 2026 11:17
پناہ گزین کیمپ کے رہائشی کمال الدباری کاٹھ کباڑ سے ’دیسی ونڈ ملز‘ بناتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
غزہ میں بے گھر افراد کے لیے بنائے گئے گنجان آباد کیمپ میں خیموں کے اوپر لگی وِنڈ ملز جب سمندر کی طرف سے آنے والی ہوا سے گھومتی ہیں تو مشکلات سے دوچار فلسطینیوں کو بجلی حاصل ہوتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کوئی برینڈڈ ونڈ ملز نہیں ہیں بلکہ ان کو ملبے، کاٹھ کباڑ اور گھریلو سامان کے ٹکڑوں سے بنایا گیا ہے۔
ان کو خان یونس کے کیمپ میں رہائش پذیر کمال الدباری نامی شخص تیار کرتے ہیں جو تکنیکی امور میں کافی مہارت رکھتے ہیں، جس کو استعمال میں لاتے ہوئے انہوں نے ٹوٹے پھوٹے سامان سے ہی کیمپ میں رہنے والوں کی کم سے کم ایک مشکل حل کر دی ہے۔ چونکہ غزہ کا بجلی کا نظام کافی حد تک تباہ ہو چکا ہے اس لیے کیمپ میں رہنے والوں کو بجلی دستیاب نہیں تھی۔
ورلڈ بینک کے مطابق اپریل 2026 تک غزہ میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے کی 90 فیصد سے زیادہ صلاحیت تباہ ہو چکی تھی اور اس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیلی تھے جس سے بنیادی انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا۔
خبر رساں ادارے کی ٹیم جب وہاں پہنچی تو کمال الدباری زمین پر بیٹھ کر بجلی کے تارون، دھات کے ٹکڑوں اور عام اوزاروں کی مدد سے چھوٹی ہوائی چکیاں (ونڈ ملز) بنا رہے تھے۔
انہوں نے احتیاط سے تار جوڑے اور ملٹی میٹر سے بجلی چیک کی تو پہلے ایک چھوٹا بلب روشن ہوا اور پھر دوسرا، جس سے بجلی کی فراہمی شروع ہونے کا اشارہ ملا۔
اسرائیل اور حماس کی لڑائی کے دوران بے گھر ہونے والے 60 سالہ کمال الدباری نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب سولر پینل سستے تھے تو ہم نے ایک پینل خریدا جس کی پوزیشن سورج کے ساتھ ساتھ تبدیل کرتے رہتے۔
سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد ایک مہلک جنگ شروع ہو گئی تھی۔
تین برس تک جاری رہنے والی لڑائی سے غزہ میں بجلی کا نظام تباہ ہو چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تین سال تک جاری رہنے والی جنگ کے باعث غزہ میں اشیا کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں کیونکہ اسرائیل گزرگاہوں پر انتہائی سخت کنٹرول رکھتا ہے جہاں امدادی سامان کے علاوہ تجارتی سامان بھی کم مقدار میں پہنچ پاتا ہے۔
کمال الدباری کے مطابق اب ایک سولر پینل کی قیمت کم از کم 15 ہزار اسرائیلی شیکل (تقریباً 5 ہزار ڈالر) ہو چکی ہے، جو غزہ کے زیادہ تر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔
’زندگی بدل دینے والا منصوبہ‘
کمال الدباری کہتے ہیں کہ ’ہم تین سال تک نہ کوئی کام کر سکے نہ ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ تھا۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس دوران ایک روز ان کے ذہن میں بجلی بنانے کا خیال آیا اور سوچا کہ کیوں نہ ہوا کی طاقت استعمال کی جائے؟ اس کے بعد انہوں نے ملبے سے قابل استعمال پرزے جمع کرنا شروع کر دیے۔
یہ ونڈ ملز سکوٹرز کی موٹروں اور پانی کی پرانی ٹنکیوں سے تیار کی گئیں اور ان کو کاٹ پنکھوں کی شکل دی گئی ہے۔
جب ہوا سے پنکھے گھومتے ہیں تو ان سے جڑی موٹر بجلی پیدا کرتی ہے۔ اس کے بعد بجلی کو تباہ شدہ گھروں سے ملنے والے پرزوں سے تیار کردہ سرکٹ کے ذریعے گزار کر بیٹریوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
کیمپ کے اندر تیار کردہ اشیا سے حاصل ہونے والی بجلی سے لائٹس جلائی اور پنکھے چلائے جا سکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اس بجلی سے موبائل فون چارج کیے جا سکتے ہیں، لائٹس اور پنکھے چلائے جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ الیکٹرک شیور بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ سہولت خیموں اور پناہ گاہوں میں رہنے والوں بڑی نعمت بن گئی ہے۔
جنگ کے دوران غزہ کے قریباً تمام شہری کم از کم ایک بار بے گھر ہوئے۔ اب زیادہ تر لوگ ایک چھوٹے سے علاقے میں رہ رہے ہیں جو حماس کے زیر انتظام ہے، جبکہ اسرائیل غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے اور اس کی سرحدی پٹی پر کنٹرول رکھتا ہے۔
مقامی طور پر ابو ایمن کے نام سے مشہور کمال الدباری کا کہنا ہے کہ ’
مقامی طور پر ابو ایمن کے نام سے مشہور کمال الدباری نے کہا کہ ’یہ ونڈ ملز ہمیں مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس آزمائش سے نکالے اور ہم اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔‘
کیمپ میں رہنے 50 سالہ صالح بن حسن کہتے ہیں کہ بجلی کے اس نظام نے سب کچھ بدل دیا ہے۔
غزہ میں علاج اور ادویات تک رسائی مشکل ہونے کے باعث یہ بجلی طبی آلات چلانے کے بھی کام آتی ہے۔
ان کے مطابق ’اگر آدھی رات کو کسی بچے کو نیبولائز کے ذریعے دوا لینے کی ضرورت پڑ جائے تو ہم کس کے پاس جائیں گے۔ اس کے لیے بجلی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہم اپنے بھائی ابو ایمن سے رجوع کرتے ہیں۔‘