Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جوہری معاملے سے متعلق تجویز قطر کے ذریعے امریکہ بھیجی ہے: ایرانی عہدیدار

ایرانی عہدیدار کے مطابق ’جوہری تجویز پر تبھی بات ہو گی جب امریکہ دوسری سات شرائط مان لے گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے کہا ہے کہ جوہری امور سے متعلق ایک تجویز تہران کے قطر کے ذریعے امریکہ کو بھجوائی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خصوصی گفتگو میں ایرانی عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تجویز پر بات چیت تبھی ہو سکتی ہے جب واشنگٹن تہران کے سات مطالبات پورے کر دے گا۔
تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
دوسری جانب ثالثوں نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں کیونکہ ایسے خدشات موجود ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ ایک بار پھر بھڑک سکتی ہے۔
 صدر ٹرمپ نے منگل کو ایک بیان میں انتخابات کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا تھا جبکہ اس کے ردعمل میں ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو مزید بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے روس کے دورے کے موقع پر جمعرات کو کہا کہ ’سفارت کاری کے معاملے پر ہم نے امریکیوں کے سامنے سات شرائط رکھی ہیں۔ جب تک وہ ہماری ان سات شرائط پر عمل نہیں کرتے، نہ تو ہم آبنائے ہرمز کھولیں گے اور نہ ہی کوئی مذاکرات کریں گے۔‘
ایران کی جانب سے جو مطالبات کیے گئے ہیں ان میں ملک پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کے علاوہ کچھ مزید شرائط بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب  دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملات کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی لڑائی شروع ہو گئی۔ حالیہ دنوں میں یہ تنازع یمن تک پھیل گیا، جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں توانائی کے مراکز، ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔

شیئر: