Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل میں حکومت سازی: عرب جماعتوں کے اتحاد کی گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان

اسرائیلی صدر نے بدھ کی شب حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کا آغاز کیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل کی سب سے بڑی عرب سیاسی جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ نے گذشتہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت بنانے کے لیے اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
’اے ایف پی‘ کے مطابق جوائنٹ لسٹ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ’وہ اسی روز شام کو اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی کہ نئی حکومت بنانے کا موقع گادی آئزن کوٹ کو دیا جائے۔‘
اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں عرب ووٹرز کی غیر معمولی شرکت کے نتیجے میں عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں نے پارلیمان کی 120 نشستوں میں سے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل میں ان جماعتوں کا کردار اہم ہوگیا ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے گزشتہ سنیچر کو ہونے والے عام انتخابات کے سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد نئی مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کردی ہے، کیونکہ انتخابات میں کوئی بھی سیاسی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
صدر نے بدھ کی شب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کا آغاز کیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ دوبارہ انتخابات سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے تمام وعدے اور یقین دہانیاں پوری ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے مذہبی اور قوم پرست سیاسی اتحاد سے وابستہ تین جماعتی گروپوں نے حکومت بنانے کا موقع انہیں دینے کی سفارش کی، جبکہ نیتن یاہو کے سابق اتحادی کی قیادت میں ایک چوتھے گروپ نے گادی آئزن کوٹ کی حمایت کی۔
جمعرات کو عرب قیادت والی دونوں جماعتوں سمیت آٹھ سیاسی جماعتوں کو صدر سے ملاقات شیڈول تھی۔ ان میں گادی آئزن کوٹ کی جماعت ’یاشار‘ اور نیتن یاہو کی جماعت ’لیکود‘ کی ملاقاتیں سب سے آخر میں طے تھیں۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو اور گادی آئزن کوٹ، دونوں میں سے کوئی بھی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔
نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکود اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی یہودی اتحادیوں نے 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کیں۔
دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کی اعتدال پسند جماعت ’یاشار‘ اور ان کے اتحاد میں شامل تین دیگر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے مجموعی طور پر 48 نشستیں حاصل کیں۔
عرب قیادت میں قائم دو سیاسی اتحاد ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘ اور ’جوائنٹ لسٹ‘ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ عرب ووٹرز کی ریکارڈ شرکت کو ان جماعتوں کی کامیابی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
ادھر اسرائیل کی سب سے بڑی عرب سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے بدھ کو ’سیاسی انتقامی کارروائی‘ کی مذمت بھی کی تھی۔ یہ ردعمل اس الزام کے بعد سامنے آیا کہ اس اتحاد کے ایک رکن پارلیمان نے گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات سے قبل غیر ملکی رقم وصول کی تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کو دہرایا۔
اسرائیلی پرچم کے سامنے ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’اس بات کے سنگین شبہات موجود ہیں کہ غیر ملکی ریاستوں نے اسرائیل کے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے خطیر رقم خرچ کی ہے۔‘
انہوں نے یہ بیان ’وزیراعظم کا دفتر‘ کے عنوان کے ساتھ جاری کیا۔

شیئر: