Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مراوہ اوپن ایئر تھیٹر الباحہ کے ثقافتی منظرنامے کا ’اہم مرکز‘

جنوب مغربی سعودی عرب کے سرسبز اور پہاڑی سلسلوں میں گھرا مراوہ اوپن ایئر تھیٹر الباحہ کا ایک اہم ثقافتی مرکز بن چکا ہے جہاں اپنے بھرپور تعمیری ورثے اور دلکش قدرتی مناظر کے لیے مشہور اس خطے میں موسیقی کے پروگرامز، موسمِ گرما کے فیسٹیول اور قومی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق مراوہ گاؤں کے نام سے منسوب یہ تھیٹر اپنے اطراف سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جس کا طرزِ تعمیر گاؤں کی روایتی ساخت اور الباحہ کے پہاڑی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔
الباحہ میونسپلٹی کی جانب سے تقریباً پانچ کروڑ 20 لاکھ سعودی ریال کی لاگت سے تیار کردہ یہ تھیٹر، طائف اور عسیر کو الباحہ کے ذریعے ملانے والی شاہراہ، کنگ عبدالعزیز روڈ کے قریب تقریباً 12 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اس اوپن تھیٹر میں پانچ ہزار سے زائد شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ شاہی پلیٹ فارم پر 300 مہمانوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس کمپلیکس میں وی آئی پی ہالز، معاون سہولیات اور ایک ہزار سے زائد گاڑیوں کے لیے پارکنگ کی جگہ بھی شامل ہے۔
یہ تھیٹر جون 2019 میں فعال ہوا جب اس نے الباحہ سمر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کی میزبانی کی۔ ایک ماہ بعد، یہاں سعودی گلوکار اور کمپوزر محمد عبده کے کنسرٹ کا انعقاد ہوا جس سے اس خطے میں بڑے پیمانے پر موسیقی کے پروگرامز کی واپسی ہوئی۔
تب سے یہ تھیٹر سالانہ الباحہ سمر فیسٹیول سمیت مختلف ثقافتی، قومی اور تفریحی تقریبات کے لیے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
اس مقام کا ثقافتی کردار اس کے طرزِ تعمیر میں جھلکتا ہے۔ کمپلیکس کے مرکز میں ایک سٹیج بنایا گیا ہے جو مختلف پرفارمنسز، عوامی تقریبات اور تفریحی پروگراموں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

اس کے پیچھے مقامی پتھروں سے تیار کردہ تین منزلہ عمارتیں موجود ہیں جو فنکاروں کے لیے مخصوص ہیں اور الباحہ کے روایتی پتھریلے دیہات سے متاثر ہو کر بنایا گیا ایک تعمیراتی پس منظر فراہم کرتی ہیں۔
اپنے عملی مقصد سے ہٹ کر، یہ تعمیرات اس جگہ کی بصری شناخت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو خطے کے تاریخی تعمیری انداز کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اور مقامی ورثے کے ساتھ اس کے تعلق کو مضبوط بناتی ہیں۔
تھیٹر کا ڈیزائن علاقے کی قدرتی ڈھلوان کے مطابق بنایا گیا ہے۔ عمارت کو پہاڑوں کے قدرتی ماحول میں اس طرح شامل کیا گیا ہے کہ نشستوں اور عوامی مقامات کی ترتیب بھی زمین کی ساخت کے مطابق ہے۔
عمارت کے سامنے کے حصوں اور تعمیری خصوصیات میں مقامی پتھر کا استعمال الباحہ کے تعمیری ورثے سے اس کے تعلق کو مزید مضبوط کرتا ہے جس سے اس جگہ کو خطے کے ماحول اور تعمیری روایات میں رچی بسی ایک منفرد پہچان ملتی ہے۔

الباحہ کا موسم بھی اس جگہ کو کھلے آسمان تلے ہونے والی تقریبات کے لیے انتہائی موزوں بناتا ہے۔ سرکاری علاقائی معلومات کے مطابق یہاں کے بہار اور گرمیوں کے موسم خوشگوار اور معتدل ہوتے ہیں، جبکہ وزٹ سعودی کے مطابق گرمیوں میں درجہ حرارت 22 سے 35 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔
ٹھنڈی شامیں، پہاڑی ہوائیں، دھند اور گرمیوں میں بارشیں اس خطے کو مملکت کے دیگر زیادہ گرم علاقوں کے مقابلے میں ممتاز بناتی ہیں۔
مراوہ اوپن ایئر تھیٹر اس بات کی مثال ہے کہ سعودی عرب میں سیاحت اور شہری ترقی کے منصوبے کس طرح ملک کے متنوع جغرافیے کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہیں اور مشترکہ ثقافتی تجربات کے لیے جگہیں پیدا کر رہے ہیں۔

چونکہ نئی دلکش جگہیں مقامی موسموں، تعمیری روایات اور علاقائی ورثے سے مسلسل استفادہ کر رہی ہیں، اس لیے سعودی عرب کا ثقافتی منظر نامہ بھی اس کے جغرافیے کی طرح متنوع اور منفرد بنتا جا رہا ہے۔

 

شیئر: