Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں دل کی پیوند کاری کے بعد دُرہ ایک مرتبہ پھر تعلیم اور مصوری میں مصروف

دُرہ کے مطابق وہ اپنی زندگی درست طریقے سے گزار رہی ہوں (فوٹو: کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر ایکس)
دُرہ میں کوئی علامتیں نہیں تھیں جب ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ وہ ایک جینیاتی تبدیلی کا شکار ہیں جو ان کے دل کے پٹھوں کو کمزور کر رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ریاض کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر (کے ایف ایس ایچ) میں دل کی پیوند کاری کے ایک سال بعد، بیس کی دہائی میں موجود یہ خاتون دوبارہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور پینٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔ وہ اکثر دل کو اپنی پینٹنگز کا موضوع بناتی ہیں۔
ان کی تشخیص ان کی بہن کی وجہ سے ہوئی۔ دُرہ کی بہن میں کارڈیو مایوپیتھی کی تشخیص کے بعد، جینیاتی ٹیسٹنگ نے اس بیماری سے جڑی تبدیلی کی نشاندہی کی اور ڈاکٹروں نے خاندان کے باقی افراد کی سکریننگ کی تجویز دے دی۔ دُرہ میں بھی یہی جینیاتی تبدیلی پائی گئی جس کی مدد سے ڈاکٹروں نے بیماری کے بڑھنے سے پہلے ہی ان کی باقاعدہ نگرانی شروع کر دی۔
اس کے کیس کی نگرانی کرنے والے کے ایف ایس ایچ میں ایڈلٹ ہارٹ فیلیئر کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر احمد المصطفیٰ نے کہا کہ ’کارڈیو مایوپیتھی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور جینیاتی ٹیسٹنگ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔ یہ بیماریاں خاندان کے افراد میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہیں، اس لیے جینیاتی ٹیسٹنگ کے ذریعے ہم ایسے افراد کی بھی شناخت کر سکتے ہیں جن میں بیماری کی جینیاتی خصوصیات موجود ہوں۔ علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس طرح ان کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور بیماری کے ایڈوانس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔‘
جیسے جیسے ان کے دل کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی، ان کی کارڈیک کیتھیٹرائزیشن اور ایم آر آئی کی گئی اور دوا کے ذریعے علاج کیا گیا۔ جب یہ علاج بھی کافی ثابت نہ ہوا تو ایک طبی کمیٹی نے اسے دل کی پیوند کاری کے منتظر مریضوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔
اس نے تقریباً پانچ ماہ انتظار کیا، جن میں سے کچھ عرصہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں روزانہ نگرانی کے تحت گزرا، یہاں تک کہ ایک موزوں عطیہ کنندہ مل گیا۔

آج دُرہ اپنا وقت لیکچرز، کھیل، سفر اور پینٹنگ کے درمیان تقسیم کرتی ہیں (فوٹو: کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر ایکس)

سرجری دوپہر سے رات آٹھ بجے تک آٹھ گھنٹے جاری رہی۔ پوری سرجری کے دوران ایک نرس خاندان کے ساتھ رہی جبکہ ڈاکٹر المصطفیٰ وقتاً فوقتاً باہر آ کر انہیں اپ ڈیٹ کرتے رہے۔ جب آپریشن ختم ہوا تو نرس نے دُرہ کی والدہ سے کہا کہ ’بس اب کام ہو گیا۔ میں نے وہ امانت پہنچا دی ہے جو مجھے سونپی گئی تھی۔‘
ٹرانسپلانٹ کے بعد، دُرہ کو ایک ایسی مشین (ای سی ایم او) پر رکھا گیا جو نئے عضو پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے عارضی طور پر دل اور پھیپھڑوں کا کچھ کام سنبھالتی ہے۔ تین دن بعد وہ اس سے باہر آ گئی، اور ان کے جسم نے نئے دل کو قبول کر لیا۔

 دل کی پیوند کاری کے ایک سال بعد دُرہ دوبارہ لاء سکول واپس گئی ہیں (فوٹو: کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر ایکس)

آج وہ اپنا وقت لیکچرز، کھیل، سفر اور پینٹنگ کے درمیان تقسیم کرتی ہیں، وہ مشغلہ جو اس کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
دُرہ نے کہا کہ ’جب آپ کچھ بھی محسوس نہ کر رہے ہوں تو ایسی خبریں ملنا مشکل ہوتا ہے۔ میں سمجھتی تھی کہ میں اپنی زندگی بالکل درست طریقے سے گزار رہی ہوں۔‘

 

شیئر: