ڈاکٹر مریض کے اوپر گھنٹوں کھڑے رہنے کے بجائے ایک آرام دہ کمپیوٹر سٹیشن پر بیٹھتا ہے (فوٹو: یو سی ہیلتھ)
جب آپ ’روبوٹک سرجری‘ کا نام سنتے ہیں تو ذہن میں فوراً کوئی سائنس فکشن فلم کا منظر آ سکتا ہے۔ ایک دھاتی روبوٹ مریض کے اوپر کھڑا ہے، خود فیصلے کر رہا ہے اور ڈاکٹر صرف دور سے دیکھ رہے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے لیے یہ خیال خوفناک ہے، کیونکہ بیماری کے وقت انسان سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ مشین انسان جیسی ہمدردی اور نرمی نہ دکھا سکے۔
لیکن انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرین طب ایک بات بالکل واضح کرتے ہیں کہ روبوٹ کبھی خود آپریشن نہیں کرتا۔
جدید ہسپتالوں میں روبوٹک سرجری دراصل ایک نہایت جدید آلہ ہے، جو ڈاکٹر کے ہاتھ اور آنکھوں کی توسیع ہے۔ پورے عمل کے دوران مکمل کنٹرول سرجن کے پاس ہوتا ہے۔ ہر فیصلہ، ہر قدم، ہر ٹانکا ڈاکٹر خود لگاتا ہے۔
ڈاکٹر مریض کے اوپر گھنٹوں کھڑے رہنے کے بجائے ایک آرام دہ کمپیوٹر سٹیشن پر بیٹھتا ہے جو اسی کمرے میں چند فٹ کے فاصلے پر ہوتا ہے۔ وہ سکرین پر جسم کے اندر کا تھری ڈی اور باریک منظر دیکھتا ہے اور ہاتھوں کے ذریعے کنٹرول استعمال کرتا ہے۔ روبوٹ انہی حرکات کو مریض کے اندر نہایت باریک اور درست عمل میں بدل دیتا ہے۔ یہاں تک کہ انسانی ہاتھ کی قدرتی لرزش کو بھی فلٹر کر دیتا ہے۔
سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ ٹیکنالوجی دور دراز مریضوں تک بھی پہنچ رہی ہے (فوٹو: زین پلس)
اہم سوال یہ ہے کہ اس کا مریض اور اس کے گھر والوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ مریض جلد صحت یاب ہوتا ہے۔ چونکہ روبوٹک آلات نہایت باریک اور لچکدار ہیں، ڈاکٹر جسم کے مشکل حصوں تک محفوظ طریقے سے پہنچ سکتا ہے۔
مریض کے لیے اس کا مطلب ہے چھوٹے کٹ، کم درد، کم خون بہنا اور انفیکشن کا کم خطرہ۔ اکثر مریض اگلے ہی دن چلنے لگتے ہیں اور جلد گھر واپس جا سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی روزمرہ زندگی، بچوں اور کام پر جلد لوٹتے ہیں۔
یقیناً، صرف روبوٹ کی موجودگی کامیاب آپریشن کی ضمانت نہیں ہے۔ اصل فرق ڈاکٹر کے تجربے، تربیت اور ہسپتال کے معیار سے پڑتا ہے۔ روبوٹ صرف ایک مددگار ہے جو اچھے سرجن کو مزید بہتر اور درست کام کرنے میں سہولت دیتا ہے۔ ڈاکٹرز سینکڑوں گھنٹے اس نظام پر تربیت حاصل کرتے ہیں، اس کے بعد ہی کسی مریض پر استعمال کرتے ہیں۔
روپوٹ ڈاکٹر کو زیادہ درستگی اور زیادہ ہمدردی کے ساتھ زندگی بچانے کی طاقت دیتا ہے (فوٹو: کلیولینڈ ہیلتھ)
سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ ٹیکنالوجی دور دراز مریضوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹر دیہات یا دور دراز کلینک میں موجود مریض پر آپریشن کر سکتے ہیں۔ انڈیا کی ایک کمپنی نے اب تک 190 سے زیادہ ٹیلی سرجریز کامیابی سے مکمل کی ہیں، جن میں براعظموں کے پار آپریشن بھی شامل ہیں۔ اس طرح مریض کو عالمی معیار کا علاج وہیں مل جاتا ہے، بغیر سفر اور اضافی خرچ کے۔
آخر میں مریض کے لیے اصل سوال یہی ہوتا ہے کہ علاج محفوظ اور آرام دہ ہے یا نہیں۔ جب جواب ہاں میں ہو تو روبوٹ خود کہانی کا مرکزی کردار نہیں رہتا، بلکہ ایک خاموش مددگار بن جاتا ہے، جو ڈاکٹر کو زیادہ درستگی اور زیادہ ہمدردی کے ساتھ زندگی بچانے کی طاقت دیتا ہے۔