قصیم میں شکار سیزن سے قبل فالکنز کی دیکھ بھال کیسے کی جاتی ہے؟
جمعرات 24 ستمبر 2026 6:48
شکار کا سیزن ختم ہونے کے بعد مالکان اپنے فالکنز دیکھ بھال کے لیے مراکز میں جمع کراتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں ’فالکن مولنٹگ فیسیلیٹیز‘ (جہاں شکاری فالکنز کو پرانے پر جھاڑنے اور نئے پروں کے آنے تک رکھا جاتا ہے) غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق یہ مراکز اگلے شکار سیزن کے لیے فالکنز کی دیکھ بھال اور سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔
شکار کا سیزن ختم ہونے کے بعد مالکان اپنے فالکنز ان مراکز میں جمع کراتے ہیں تاہم جمع کرانے سے قبل پہلے ان کا مکمل طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔
ان مراکز کی اہمیت ’قرنسہ‘ سیزن کے دوران بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران فالکنز کی مسلسل دیکھ بھال اور طبی معائنہ اہم ہوتا ہے۔ نئے پروں کے دوبارہ آنے کے بعد ہی وہ شکار سیزن کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
فالکن مرکز کے ایک مالک ناصرالعجمی نے بتایا کہ عام طور پر مارچ اور اپریل میں فالکنز کو مرکز میں لایا جاتا ہے اور وہ ستمبر کے آخر تک یہاں رہتے ہیں۔

مرکز میں آمد کے ساتھ ہر فالکن کو ضروری ٹیسٹ کے بعد ایک ہفتے سے دس دن تک الگ کمرے میں رکھا جاتا ہے جہاں علاج کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا مرکز کا درجہ حرارت 25 سے 27 ڈگری کے درمیان رکھا جاتا ہے جبکہ مناسب و تازہ ہوا کی آمدورفت، صفائی، دھوپ اور معیاری خوراک کی فراہمی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
فالکنز کی صحت کا اندازہ لگانے کے لیے ان کی بھوک پر بھی گہری نظر رکھی جاتی ہے۔ اس دوران وٹامنز سے بھرپور متوازن غذا دی جاتی ہے۔

ایک اور مرکز کے مالک نایف الخمعلی کا کہنا ہے کہ سینیٹائزیشن کے خاص اہتمام کے ساتھ مرکز میں مناسب ماحول اور بہتر نگرانی بھی اہم ہوتی ہے۔
پانچ سے سات ماہ قیام کے دوران فالکنز کے آرام و سکون میں کوئی خلل نہیں ڈالا جاتا جبکہ کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔
