Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ڈیل کے لیے مصالحت کاروں کی کوششیں جاری: حکام

امریکہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات کی جانچ کروانا چاہتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تین حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے لیے ثالث اب بھی دونوں ملکوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ بالواسطہ مذاکرات پیر کو دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ تفصیلات ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں جب ایران امریکہ جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو گئی ہے جس کے باعث بڑے پیمانے پر معاشی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک پر محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کی متعدد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ہفتے کے اختتام پر اُس وقت بھی صورتِ حال غیر یقینی رُخ اختیار کر گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایران کی تازہ تجویز مسترد کر دی ہے۔
تہران نے تجویز دی تھی کہ امریکہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کر دے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کر دے، تو وہ ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا۔ ایران کی جانب سے اس کے علاوہ بھی کچھ شرائط پیش کی گئی تھیں۔
تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں موجود رہے اور کہا کہ وہ ثالثوں کی جانب سے پیش رفت کی اطلاع کے منتظر ہیں۔ اس پورے عمل میں قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پیر کو اے پی سے بات کرنے والے دو حکام نے تصدیق کی کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ ایک ایسی تجویز پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی، جس کے بعد ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مرحلہ آئے گا۔
زیرِ غور مسودے کے مطابق آبنائے ہرمز کو ایک الگ معاہدے کے تحت دوبارہ کھولا جائے گا جس پر ایران آبنائے کے دوسری جانب واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس میں کسی قسم کا ٹول یا گزرگاہ فیس شامل نہیں ہوگی، جو تہران کی ایک اہم خواہش رہی ہے۔
دونوں حکام نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ کے عوامی بیانات کے باوجود امریکہ نے موجودہ تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا۔ اس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات مذاکرات میں دباؤ بڑھانے یا اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید رعایتیں چاہتا ہے، جن میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ جون میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت، جو چند ہی دنوں میں ناکام ہوگئی تھی، کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر 60 روز کے دوران مذاکرات ہونا تھے۔
تینوں حکام نے پسِ پردہ جاری سفارتی مذاکرات پر بات کرنے کے لیے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ معاہدے سے امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے (فوٹو: تہران ٹائمز)

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے ایک بند کمرہ اجلاس میں بتایا تھا کہ تہران نے یہ معاہدہ اس انداز میں پیش کیا ہے کہ اس سے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سات روز کی یہ مدت اُس وقت شروع ہوگی جب امریکہ اس منصوبے کو قبول کرے گا۔‘
ایران کی بے چینی کا اندازہ پیر کو سامنے آنے والے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب اس بیان سے بھی ہوتا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے قریب دشمن افواج کو پہنچنے والی ’دردناک ضربوں‘ کا ذکر کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بحیرۂ عرب کو ان سے پاک کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘
تازہ مجوزہ معاہدے کا مقصد ایک بار پھر تمام محاذوں پر لڑائی ختم کرنا ہے، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک نیا محاذ بھی کھل گیا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ یمن کے باغی اب بحیرۂ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع ایک اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے باب المندب کے قریب موجود ہیں۔ اس صورتِ حال نے عالمی منڈیوں پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ حوثیوں کے اپنے مطالبات ہیں اور پڑوسی ملک سعودی عرب کے ساتھ ان کا تنازع امریکہ اور ایران کی جنگ سے الگ ہے۔ تاہم ایک عہدیدار کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کسی تصفیے تک پہنچنے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

شیئر: