جہاں ایک طرف امریکہ ایران کے ہوابازی کے شعبے پر عائد پابندیوں کی کامیابی کا جشن منا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی صرف تہران سے ہی تقریباً 30 بین الاقوامی مقامات کے لیے پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس صورتحال کے بارے میں ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ یہ ہے:
پابندی
ستمبر کے اوائل میں امریکہ نے ایران کے ہوابازی کے پورے شعبے پر پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ اس مہم کا حصہ تھا جس کے بارے میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ کا ’معاشی گلا گھٹ جائے گا‘ یعنی معیشت مفلوج ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں
-
امریکی پابندیاں، عراق کے مقدس شہر نے ایرانی پروازیں معطل کر دیںNode ID: 908808
واشنگٹن نے غیر ملکی کمپنیوں کو ان پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے 23 ستمبر تک کی مہلت دی تھی، جس کے بعد بیسنٹ نے عزم ظاہر کیا کہ دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئر لائنز کو ’بند کر دیا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ (ایرانی طیارے) کہیں اترتے ہیں تو آپ انہیں ایندھن فراہم نہیں کر سکتے، لینڈنگ کی سہولیات نہیں دے سکتے اور نہ ہی انہیں ٹکٹ فروخت کر سکتے ہیں، بصورتِ دیگر آپ کو ڈالر کے نظام سے باہر نکال دیا جائے گا۔‘
امریکہ کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تہران نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں شکایت درج کرائی ہے۔
تہران سے پروازوں کی تعداد نصف رہ گئی
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے کل 41 پروازوں نے اڑان بھری یا وہاں لینڈ کیا۔ اس کا موازنہ پابندیاں نافذ ہونے سے پہلے کے دو دنوں میں روزانہ اوسطاً 80 سے 90 پروازوں سے کیا جا سکتا ہے۔
ایران کی دو بڑی ایئر لائنز، قومی ایئر لائن ’ایران ایئر‘ اور نجی ملکیت والی ’ماہان ایئر‘ سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

اتوار کو تہران ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی 24 پروازوں میں سے صرف پانچ ماہان ایئر اور دو ایران ایئر کی تھیں، جبکہ پابندیوں سے قبل یہ دونوں ایئر لائنز الگ الگ تقریباً 10، 10 پروازیں چلاتی تھیں۔
یہ اعداد و شمار بیسنٹ کے بتائے گئے اعداد و شمار (جن کے مطابق 80 سے 90 فیصد پروازیں بند کر دی گئی تھیں) سے زیادہ ہیں، لیکن تہران ہوائی اڈے کے اس دعوے سے کم ہیں کہ اتوار کو وہاں سے 60 پروازیں چلائی گئیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر کے حوالے سے کہا کہ ’اب بھی 30 سے زائد بین الاقوامی مقامات کے لیے پروازیں جاری ہیں۔‘
چین، روس اور ترکی کی جانب سے پابندیوں کو نظر انداز کرنا
تہران کے اہم اقتصادی اتحادی بیجنگ نے امریکی پابندیوں کو ’غیر قانونی اور یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے اور ’ماہان ایئر‘ کی پروازیں بدستور چینی ہوائی اڈوں کے لیے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔
روس اور پاکستان کے لیے بھی پروازیں جاری ہیں، اگرچہ ان میں سے کسی بھی ملک نے پابندیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تاہم، ایئر لائن کے مطابق ’ماہان ایئر‘ نے ترک حکام کی درخواست پر ترکی کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔

اس کے باوجود ’ایران ایئر‘ استنبول کے لیے روزانہ پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایران کی کئی چھوٹی ایئر لائنز بھی ترکیہ کے دیگر شہروں کے لیے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔
یہ پابندیاں ابھی آرمینیا، افغانستان، بیلاروس اور ملائیشیا میں لاگو نہیں کی گئی ہیں، جہاں بنیادی طور پر ایران کی چھوٹی ایئر لائنز خدمات فراہم کرتی ہیں۔
واشنگٹن نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ آیا وہ ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا جو پابندیوں کی تعمیل نہیں کرتے۔
خلیجی ممالک
متحدہ عرب امارات، جو یورپ، ایشیا یا افریقہ جانے کے خواہشمند ایرانی مسافروں کے لیے ایک اہم مرکز ہے، نے اپنی سرزمین سے آنے اور جانے والی تمام ایرانی پروازیں ’اگلے حکم تک‘ معطل کر دی ہیں۔
کویت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے ذرائع نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ سات ماہ قبل جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی ایرانی ایئر لائنز کے کویت میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
دیگر خلیجی ممالک نے کوئی باضابطہ اعلان تو نہیں کیا لیکن ان کے ہوائی اڈوں کی ویب سائٹس کے مطابق پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ نے ہوائی اڈے کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی پروازیں اب آذربائیجان اور جارجیا کے ساتھ ساتھ عراق بھی نہیں جا سکتیں، حالانکہ عراق پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عراق کی جانب سے زائرین کے لیے رعایت کی کوشش
عراقی حکومت نے سنیچر کو کہا کہ وہ ایرانی ایئر لائنز پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے مریضوں، طلباء اور زائرین کے سفر میں خلل پڑا ہے۔
وزیراعظم کے میڈیا آفس نے کہا کہ ’عراقی حکومت امریکی فریق کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ عراق کے مخصوص ہوائی اڈوں کو ان اقدامات سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ استثنیٰ ملنے کی صورت میں ’انسانی بنیادوں پر، بشمول طبی علاج، تعلیم، مذہبی دوروں اور شہریوں کے مفاد کے لیے‘ پروازیں دوبارہ شروع کی جا سکیں گی۔
ایرانی ایئر لائنز بنیادی طور پر عراق کے شیعہ زائرین کو ایران کے مقدس شہروں تک پہنچاتی ہیں یا ان ایرانیوں کو لے جاتی ہیں جو عراق میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ یہ پروازیں ایران میں زیرِ تعلیم عراقی طلبہ اور وہاں طبی علاج کروانے والے مریضوں کے لیے بھی سہولت فراہم کرتی ہیں۔












