Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جسمانی اور نفسیاتی تشدد‘، راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی درخواست پر شوہر گرفتار

ملیحہ سحر نے ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا کہ ’2 اور 3 اکتوبر کی درمیانی رات اور 3 اکتوبر شام تک انہیں کمرے میں بند رکھا گیا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
راولپنڈی پولیس نے خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹرز ملیحہ سحر کی درخواست پر ان کے شوہر جواد علی کو گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کر دیا ہے۔
عدالت نے ملزم جواد علی کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ ملزم کے خلاف تھانہ وویمن میں ملیحہ سحر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
’شوہر نے تشدد کا نشانہ بنا کر کمرے میں بند کر دیا‘
اردو نیوز کو موصول واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق خاتون افسر نے مؤقف اپنایا کہ ان کے خاوند کی جانب سے شدید جسمانی اور ذہنی تشدد، حبس بے جا اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیاہے کہ دو چھوٹے بچوں کی والدہ ہونے کے باوجود ملیحہ سحر کو گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل ان کے شوہر کے ہاتھوں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے مسلسل ذہنی اور جسمانی تشدد کو برداشت کرتی رہی ہیں۔ 
’میرا موبائل چھین کر حبس بے جا میں رکھا گیا‘
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر نے مؤقف اپنایا ہے کہ انہیں ان کے شوہر کے ہاتھوں انتہائی جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا 2 اکتوبر کی شام کو کرنا پڑا جب انہیں جسمانی تشدد کے بعد کمرے میں بند کر دیا گیا۔
ملیحہ سحر نے ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا کہ ’2 اور 3 اکتوبر کی درمیانی رات اور 3 اکتوبر شام تک انہیں کمرے میں بند رکھا گیا اور اس دوران ان کے شوہر نے انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔‘
خاتون افسر کے مطابق ان کے شوہر کی جانب سے بچوں کو ذہنی تشدد کا ایک ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملیحہ سحر نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کے شوہر کو ان تک کسی قسم کی رسائی میسر نہ ہو اور وہ بچوں کو بنیاد بنا کر انہیں مزید ذہنی تشدد کا نشانہ نہ بنا سکیں۔

 

شیئر: