کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج محافظ سمیت دو دن سے لاپتہ
کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج محافظ سمیت دو دن سے لاپتہ
جمعرات 8 اکتوبر 2026 11:26
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سرکاری افسران اور اہلکاروں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں تعینات قائمقام ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی اپنے محافظ سمیت لاپتہ ہوگئے ہیں اور دو روز گزرنے کے باوجود دونوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
پولیس کے مطابق جج اور ان کے ساتھ موجود پولیس اہلکار کے موبائل فون بھی بند ہیں جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کوئٹہ اور پنجگور کے درمیان قومی شاہراہ پر کسی مقام سے اغوا کیا گیا ہے۔
پنجگور پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ قائمقام ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی منگل کی صبح اپنی ذاتی گاڑی میں کوئٹہ سے پنجگور کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
ان کے ہمراہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر تاج محمد بھی موجود تھے۔ پولیس افسر کے مطابق جج نے کوئٹہ سے پنجگور تک اپنے سفر کو سکیورٹی خدشات کے باعث خفیہ رکھا تھا اور اس بارے میں صرف ان کے اہلخانہ اور ایک ساتھی جج کو علم تھا۔
ان کے مطابق اسداللہ رئیسانی نہ تو پنجگور پہنچے اور نہ ہی واپس کوئٹہ اپنے گھر آئے۔ ان کے ساتھ موجود پولیس اہلکار سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ جج اور پولیس اہلکار دونوں کے موبائل فون نمبرز بند آ رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کوئٹہ اور پنجگور کے درمیان کسی مقام سے اغوا کیا گیا ہے۔
پنجگور اور کوئٹہ کے درمیان قومی شاہراہ کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں مسلح گروہوں کی جانب سے ناکہ بندیوں اور حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم تاحال ان کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
بلوچستان میں گذشتہ کچھ عرصے میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سرکاری افسران اور اہلکاروں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
20 ستمبر کو بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے دو محافظوں اور ایک ساتھی سمیت اغوا کر لیے گئے تھے۔ تقریباً 10 روز بعد ڈپٹی کمشنر اور دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل 13 مئی 2026 کو گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے مستونگ کے قریب وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ، لیکچرار اور ان کے ڈرائیور کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ بعد میں انہیں بھی رہا کر دیا گیا تھا