Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نانا پاٹیکر: شدتِ احساس کو ہوا دینے والا اداکار جس نے انڈین سنیما کو ایک نئی زبان عطا کی

نانا پاٹیکر نے ثابت کیا کہ اداکار کی اصل طاقت اس کی شکل و صورت نہیں بلکہ اس کے فن کی سچائی ہوتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یہ اس زمانے کی بات ہے جب انڈین سنیما بالی وڈ سپرسٹار راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کے سحر میں ڈُوبا ہوا تھا اور رومانوی، ایکشن فلمیں دُھوم مچا رہی تھیں۔
ابھی متوازی سنیما اپنی آنکھیں کھول رہا تھا اور ہوش سنبھال رہا تھا۔ تھیٹر کے کئی اداکار مین سٹریم سنیما کا رُخ کر رہے تھے۔ 
اس زمانے میں فلم ’گمن‘ سے ایک نوجوان اداکار نے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ ان کا نام وشوناتھ پاٹیکر تھا جو بعد میں نانا پاٹیکر کے نام سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
انڈین سنیما کی تاریخ میں کئی اداکار ایسے ہوئے ہیں جو محض کردار ادا نہیں کرتے بلکہ اپنے فن، اپنے لہجے اور اپنی شخصیت سے ایک عہد کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔
نانا پاٹیکر انہی فنکاروں میں شامل ہیں۔ ان کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسی شخصیت اُبھرتی ہے جو روایتی ہیرو کے سانچے میں ڈھلنے کے بجائے اپنی منفرد اداکاری، گرج دار آواز اور بے مثال مکالمہ ادائیگی کی بدولت ناظرین کے دلوں پر نقش ہو گئی۔
اوم پوری، نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی، سمیتا پاٹل کی طرح نانا پاٹیکر نے بالی وڈ کی چاکلیٹی ہیرو والی فلم انڈسٹری میں یہ ثابت کیا کہ اداکار کی اصل طاقت اس کی شکل و صورت نہیں بلکہ اس کے فن کی سچائی اور کردار میں ڈُوب جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
اور پھر نانا پاٹیکر کا شمار ان فنکاروں میں ہونے لگا جنوں نے ہر کردار کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیا۔ ان کی فلموں میں معاشرتی بے چینی، فرد کی اندرونی کشمکش، غصہ، محبت اور انسانی کمزوریوں کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
نانا پاٹیکر کی موت جمعرات 8 اکتوبر 2026 کی صبح 75 سال کی عمر میں انڈیا کی مغربی ریاست گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
انڈین وزیراعظم سمیت فلم انڈسٹری کے مشاہیر نے انہیں یاد کیا اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نانا پاٹیکر پر ’می ٹو‘ کے تحت جنسی ہراسانی کے الزامات بھی لگے لیکن عدالت نے انہیں ان الزامات سے بری قرار دیا۔

نانا پاٹیکر انڈسٹری میں آئے تو بالی وڈ سپرسٹار راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کے سحر میں ڈُوبا ہوا تھا (فائل فوٹو: ریڈِف)

نانا پاٹیکر کی موت پر ہم چار فلموں میں لازوال اداکاری کے حوالے سے انہیں یاد کر رہے ہیں۔
پرندہ: اندھیروں میں جلتی ہوئی اداکاری
ودھو ونود چوپڑا کی فلم ’پرندہ‘ سے جہاں انیل کپور اور مادھوری ڈکشٹ کو شہرت ملی وہیں 1989 میں آنے والی یہ فلم نانا پاٹیکر کے فلمی سفر کا وہ موڑ ثابت ہوئی جس نے انہیں قومی سطح پر شناخت دلائی۔
فلم میں انہوں نے گینگسٹر ’انّا‘ کا کردار نبھایا جو بیک وقت خوفناک، سفاک اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے بھرپور تھا۔
’انّا‘ کا کردار انڈین سنیما کے یادگار ولنز میں شمار ہوتا ہے۔ نانا پاٹیکر نے اپنی آنکھوں کی زبان، خاموشی اور بے قابو غصے سے اس کردار کو ایسا رنگ دیا کہ ناظرین آج بھی اسے نہیں بھول سکے۔
ان کے چھوٹے چھوٹے مکالمے زباں زدِ عام ہو گئے۔ ان کا یہ مکالمہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ ’دھندہ کشن، دھندے میں کوئی کسی کا بھائی نہیں ہوتا، کوئی کسی کا بیٹا نہیں ہوتا۔
فلم ’پرندہ‘نے انہیں قومی ایوارڈ دلایا اور یہ ثابت کیا کہ وہ روایتی کرداروں سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔

فلم ’پرندہ‘ سے جہاں انیل کپور اور مادھوری ڈکشٹ کو شہرت ملی وہیں نانا پاٹیکر کو قومی سطح پر شناخت مل گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’پراہار‘ یعنی ایک سپاہی کی رُوح کی پکار
پرندہ' کے دو سال بعد آنے والی فلم ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ نانا پاٹیکر کے کیریئر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس فلم میں انہوں نے نہ صرف مرکزی کردار ادا کیا بلکہ ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیے۔
میجر چوہان کا کردار ایک ایسے فوجی کی کہانی بیان کرتا ہے جو نظم و ضبط، فرض شناسی اور حب الوطنی کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔
فلم ’پراہار‘ صرف ایک جنگی فلم نہیں بلکہ یہ معاشرے میں پھیلی بدعنوانی اور بے حسی کے خلاف ایک احتجاج بھی تھی۔
نانا پاٹیکر نے اس کردار میں جو شدت اور سچائی پیدا کی، اس نے ثابت کیا کہ وہ محض اداکار نہیں بلکہ ایک حساس فنکار ہیں جو اپنے فن کے ذریعے سماجی سوالات اٹھانے کی جُرات رکھتے ہیں۔
کرانتی ویر: عوام کے غصے کی آواز
سنہ 1994 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کرانتی ویر‘ نانا پاٹیکر کے کیریئر کی سب سے مقبول فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

 نانا پاٹیکر غصے کو محض چیخ پکار تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے جذباتی اور انسانی کیفیت میں بدل دیتے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پرتاپ نارائن تلک کا کردار ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو ابتدا میں بے پروا اور باغی نظر آتا ہے لیکن بعد میں سماجی ناانصافی اور فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔
فلم کے عدالتی مناظر اور نانا پاٹیکر کے طویل مکالمے آج بھی شائقین کو یاد ہیں اور جب جب احتجاج کی فضا ہوتی ہے سوشل میڈیا پر اسے شیئر کیا جاتا ہے۔
اُن کی اداکاری میں جو جوش، درد اور صداقت تھی، اس نے کردار کو محض فلمی ہیرو کے درجے سے بلند کرکے ایک سماجی علامت بنا دیا۔
فلم ’کرانتی ویر‘ نے یہ احساس دلایا کہ سنیما معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
اس فلم کے لیے انہیں بہترین اداکاری کے لیے فلم فیئر اور نیشنل فلم ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
انگار: غصے اور مزاحمت کا چہرہ
فلم ’انگار‘ میں نانا پاٹیکر نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جو طاقتور مافیا اور جرائم پیشہ نظام کے خلاف ڈَٹ جاتا ہے۔ اس فلم میں ان کے کردار کی جارحیت اور اندرونی بے چینی نے ناظرین کو بے حد متاثر کیا۔

فلم ’کرانتی ویر‘ میں بہترین اداکاری پر نانا پاٹیکر کو فلم فیئر اور نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نانا پاٹیکر کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ وہ غصے کو محض چیخ پکار تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک جذباتی اور انسانی کیفیت میں بدل دیتے ہیں۔
یہ فلم 1992 میں انڈیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں نویں نمبر پر رہی۔
نیشنل فلم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن آف انڈیا نے اسے '’ایک شہری (اربن) ایکشن فلم‘ قرار دیا۔
دی ٹائمز آف انڈیا نے اسے ’بالی وڈ کی سب سے مؤثر اور دلچسپ مافیا فلموں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ فلم کا غیر معمولی طور پر تاریک اور سنجیدہ ماحول ہے۔
روزنامہ دی ہندو نے لکھا کہ اس فلم میں عصری زندگی اور سماجی حقیقتوں کے بارے میں ایک گہری فکری تشویش موجود ہے، جس نے اسے ایک منفرد اور ممتاز شناخت عطا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی خاص بات ان کا فطری اندازِ گفتگو ہے۔ وہ مکالمے بولتے نہیں بلکہ جیتے ہیں۔ ان کے کرداروں میں مصنوعیت کم اور زندگی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ ’پرندہ‘ کا انّا، ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ کا میجر چوہان، ’کرانتی ویر‘ کا پرتاپ نارائن تلک اور ’انگار‘ کے باغی کردار آج بھی انڈین سنیما کے سنہرے صفحات کا حصہ ہیں۔

شیئر: