کیا ناشپاتی دل کی صحت اور شوگر کے علاج میں مفید ہے؟
اتوار 11 اکتوبر 2026 7:50
ریانون لیمبرٹ کے مطابق ناشپاتی چھلکے سمیت کھانا بہتر ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ناشپاتی میں موجود غذائی ریشہ، پوٹاشیم اور قدرتی نباتاتی مرکبات آنتوں اور دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ اس پھل کا باقاعدہ استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس کے کم خطرے سے بھی منسلک پایا گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرِ غذائیت اور کتاب ’دی فائبر فارمولا‘ کی مصنفہ ریانون لیمبرٹ کا کہنا ہے کہ ناشپاتی میں پانی اور غذائی ریشہ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو اسے صحت مند غذا کا اہم حصہ بناتا ہے۔
برطانوی سپر مارکیٹ چین ویٹ روز کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ناشپاتی کی طلب میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ریانون لیمبرٹ کے مطابق درمیانے سائز کی ایک ناشپاتی میں تقریباً 6 گرام غذائی ریشہ ہوتا ہے جبکہ روزانہ تجویز کردہ مقدار 30 گرام ہے۔ آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا اس ریشے کو خمیر کرکے ایسے مرکبات بناتے ہیں جو آنتوں کی اندرونی تہہ کو صحت مند رکھنے اور سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ فائبر آنتوں کی باقاعدہ حرکت اور پاخانے کی مناسب ساخت برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناشپاتی میں موجود حل پذیر فائبر، خصوصاً پیکٹن، کولیسٹرول کی صحت مند سطح برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے جبکہ سوڈیم کی مقدار قدرتی طور پر کم ہوتی ہے، جو بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کے لیے مفید ہے۔ ناشپاتی کے چھلکے میں پولی فینولز نامی نباتاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں، جن کا تعلق دل کی صحت سے متعلق تحقیق میں زیرِ مطالعہ ہے۔
تحقیق کے مطابق ہفتے میں ایک بار ناشپاتی یا سیب کھانے کو ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں 3 فیصد کمی سے منسلک کیا گیا جبکہ زیادہ باقاعدگی سے استعمال کرنے والوں میں یہ کمی 18 فیصد تک رپورٹ ہوئی۔ تاہم یہ تعلق بیماری سے بچاؤ کی ضمانت نہیں۔
ریانون لیمبرٹ کے مطابق ناشپاتی چھلکے سمیت کھانا بہتر ہے کیونکہ اس میں فائبر اور متعدد مفید مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ پورا پھل جوس کے مقابلے میں زیادہ فائبر فراہم کرتا ہے اور پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک ناشپاتی میں تقریباً 100 کیلوریز ہوتی ہیں۔
ماہرِ غذائیت نے خبردار کیا کہ ناشپاتی میں فرکٹوز اور سوربیٹول بھی ہوتے ہیں جو بعض افراد میں گیس، اپھارے اور پیٹ کی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔
