Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، وفاقی حکومت کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے؟

کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے دوران صوبے کا انتظامی کنٹرول وفاق کے نامزد کردہ منتظم کے پاس رہے گا (فوٹو: پی ایم آفس)
صدر پاکستان آصف زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
اتوار کو ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔
صوبے کا انتظامی کنٹرول اور اختیارات
کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے دوران صوبے کا انتظامی کنٹرول وفاق کے نامزد کردہ منتظم کے پاس رہے گا، تاہم قانون سازی کے اختیارات مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کے پاس رہیں گے۔
آئین کے تحت جب ایمرجنسی نافذ ہو پارلیمنٹ کو کسی صوبے یا اس کے کسی بھی حصے کے لیے قانون بنانے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کسی ایسے معاملے کے حوالے سے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہیں ہے ایسے قوانین کی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایمرجینسی کے دوران وفاقی حکومت بنیادی حقوق معطل کر سکتی ہے اور صوبائی حکومتوں کو احکامات جاری کر سکتی ہے اور صوبائی اداروں اور معاملات کے حوالے سے آئینی دفعات کی کارروائی کو بھی معطل کر سکتی ہے، تاہم ایسے احکامات کی پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین میں یہ بھی واضح طور پر درج ہے کہ وفاقی حکومت آئین کو موقوف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ سے متعلق آئین کی دفعات کو معطل کر سکتی ہے۔
ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق تمام حالات میں اعلیٰ عدالتوں کو آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت عدالتی نظرثانی کے اختیارات حاصل ہوں گے اور ایمرجنسی کے اعلان کی درستگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا اور نفاذ کے جواز کے بارے میں ان کا فیصلہ یا حتمی اعلامیہ پابند ہوگا۔

ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں 30 دن میں صدر مملکت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)

آئین کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے لگائی جا سکتی جبکہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دو مرتبہ دو ماہ کی توسیع بھی لی جا سکتی ہے یعنی وفاق کسی صوبے میں کل 6 ماہ کے لیے انتظامی کنٹرول اپنے پاس لے سکتا ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں 30 دن میں صدر مملکت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کریں گے جس میں ایمرجنسی کی توثیق سادہ اکثریت سے حاصل کرنا لازم ہو گی۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کی آئینی بنیاد کیا ہے؟
آئین پاکستان کے مطابق وفاق اگر کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ کرنا چاہے تو آئین کے دسویں حصے کی چھ شقیں یعنی آرٹیکل 232 سے 237 تک تمام آرٹیکلز ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ، عمل درآمد، ایمرجنسی کے دوران اختیارات کے تعین اور مدت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے طریقہ کار فراہم کرتے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 232 وفاق کو کسی صوبے میں ایمرجنسی جبکہ آرٹیکل 234 گورنر راج کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔
آرٹیکل 232 کے تحت ملک بھر یا ملک کے کسی حصے میں اندرونی خلفشار یا بیرونی جنگ کے نتیجے میں صدر مملکت ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
آرٹیکل 232 کے تحت اگر اندرونی خلفشار کے تحت ایمرجنسی لگانا مقصود ہو تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے قرارداد کی منظوری لازم ہو گی، تاہم اگر بیرونی جنگ مسلط ہونے کی صورت میں صدر مملکت ایمرجنسی ڈکلئیر کرتے ہیں تو مجلس شوریٰ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے صدر مملکت کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی کی توثیق 10 دن میں لازمی ہے۔

وفاق کی جانب سے انتظامی امور کے بجائے صوبوں کے مالی امور کو اپنے کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے (فوٹو: پی ایم آفس)

آئین کا آرٹیکل 234 وفاق کو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ آئین کی اس شق کے مطابق اگر صوبے کا گورنر یہ سمجھے کہ صوبے کا انتظام آئین کے مطابق نہیں چل رہا تو وہ مناسب توجہیات کے ساتھ صدر مملکت کو رپورٹ ارسال کر سکتا ہے۔
اگر ملک میں معاشی صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائے تو آئین کے آرٹیکل 235 کے تحت صدر مملکت تمام صوبوں کے گورنررز ، یاکسی ایک متعلقہ صوبے کے گورنر سے مشاورت کے بعد معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اس صورت میں وفاق کی جانب سے انتظامی امور کے بجائے صوبوں کے مالی امور کو اپنے کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے۔
ماضی میں کب کب گورنر راج نافذ ہوا؟
ماضی میں اس بات کی مثالیں موجود ہیں کہ پاکستان کے کئی صوبوں میں گورنر راج نافذ کیے گئے۔ خود وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق صوبہ سندھ میں آج تک تین گورنر راج لگ چکے ہیں۔
حال ہی میں 25 فروری 2009 کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 237 کے تحت صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کی حکومت کے خلاف دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا تھا۔
اس کے بعد مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم مسلم لیگ ن کے لانگ مارچ اور ججز کی بحالی کے بعد گورنر راج ختم کردیا گیا تھا۔
اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعلیٰ کے عہدے سے شہباز شریف کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بچنے کے لیے صدر نے گورنر راج نافذ کرکے اختیارات گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سونپے تھے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف گورنر راج کے نفاذ کے بعد آئین میں ترمیم کی گئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے بعد جنوری 2013 میں بھی کوئٹہ میں خودکش اور کار بم دھماکے میں 90 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے چچا چوہدری الطاف حسین نے بھی بطور گورنر پنجاب 1993 کی سیاسی کشیدگی کے دوران بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے صوبے میں کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کو صدر غلام اسحق خان کے ساتھ مل کر انتظامی اقدامات کے ذریعے ناکام بنایا تھا۔ انہیں بے نظیر بھٹو نے 1994 میں اپنی حکومت آنے کے بعد دوبارہ بھی گورنر بنایا تھا۔
پنجاب میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف گورنر راج کے نفاذ کے بعد آئین میں ترمیم کی گئی تھی اور آرٹیکل 232 کے تحت اس امر کو یقینی بنایا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر گورنر راج نافد نہ ہو۔

 

شیئر: