’چند روز بعد شادی تھی‘: ریاض حملے میں 28 سالہ فلائٹ اٹینڈنٹ ہلاک
عزۃ رمزی مصر واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں مگر وقت نے مہلت نہ دی (فائل فوٹو)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں جان سے جانے والی 28 سالہ مصری فلائٹ اٹینڈنٹ عزۃ رمزی چند دنوں میں شادی کے لیے مصر واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں مگر وقت نے مہلت نہ دی۔
سعودی فضائی کمپنی فلائی ناس میں ملازمت کرنے والی غزہ رمزی حملے کے وقت ایئرپورٹ پر ڈیوٹی دے رہی تھی۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں دم توڑ دیا۔
العربیہ کے مطابق مصر کی کمشنری البحیرہ میں واقعے کی خبر ملتے ہی فضا سگوار ہوگئی۔ اس خبر نے علاقے کے رہائشیوں کو ہلا کر رکھ دیا جہاں ان کا خاندان رہائش پذیر ہے۔
ایک رشتے دار نے بتایا کہ ’عزۃ رمزی نے ملازمت چھوڑنے کے بعد آبائی علاقے میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔‘
عزۃ رمزی کے کزن احمد لبیب کا نے بتایا کہ ’وہ لا گریجویٹ تھیں، اپنے شعبے میں جانے کے بجائے جب ایوی ایشن میں ملازمت کی آفر ملی تو اسے قبول کر لیا۔‘
اپنے گھروالوں کو اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ یہ ان کی آخری پرواز ہوگی اس کے بعد وہ سالانہ چھٹیوں پر گھر آئیں گی اور ملازمت چھوڑ دیں گی۔
مصری فلائٹ اٹینڈنٹ کی میت مصر روانہ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے والوں کی بھر مار ہے۔
یاد رہے سنیچر کی سہ پہر ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے میں 12 افراد جاں سے گئے اور 309 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
