Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

افغانستان میں 20 ہزار سے زائد دہشت گرد موجود، ٹی ٹی پی والے بھی پناہ لیے ہوئے ہیں: عطا تارڑ

دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں 20 ہزار سے زیادہ دہشت گرد موجود ہیں اور چھ ہزار سے زیادہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بھی پناہ لیے ہوئے ہیں۔‘
پیر کو اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے منعقد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’حکومت دہشت گردوں کو افغانستان میں موجود پناہ گاہیں پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔  
ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دیں اور خیبر پختونخوا کے عوام اپنے صوبے سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
’خیبر پختونخوا میں آنے والی خوش آئند تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہیں، اب دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری طاقت سے لڑی جائے گی۔‘
عطا تارڑ کے مطابق ’دہشت گرد افغانستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جو وہاں ہر قسم کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے۔‘
دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ پاکستان کی جانب سے فضائی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔
جن کے بارے میں پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں درجنوں ایسے دہشت گرد مارے گئے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
پاکستان پڑوسی ملک پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے ٹی ٹی پی کے کارکنوں کو پناہ دے رکھی ہے جبکہ کابل ایسے الزامات سے انکار کرتا ہے۔

 

شیئر: