Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما حکومتی تحویل میں ہیں: طلال چودھری

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پیر کو برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ’جی ہاں، میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر تحویل میں لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر ان میں سے کسی کے خلاف مقدمات موجود ہوئے تو ان پر فردِ جرم عائد کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ دیگر افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
طلال چوہدری کے مطابق یہ گرفتاریاں اتوار کو عمل میں آئیں۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو پشاور کے گورنر ہاؤس میں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی جبکہ اس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے علاوہ صوبے کے دیگر حکام نے شرکت کی۔
محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے کے بعد خیبر پختونخوا عوام کی جانب سے جو رسپانس سامنے آیا ہے وہ سب کے سامنے ہے کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سڑکوں پر آئیں گے، ان کے میسیجز سب کے سامنے ہیں، مگر ایسا نہیں ہوا جس پر خیبر پختونخوا کے عوام سراہے جانے کے قابل ہیں۔
ان کے مطابق ’اب جب حکومت انہی لوگوں کو لیڈ کرے گی تو یہ آپ کو رزلٹ دیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ ایک دن میں سب بدل جائے، اپس اینڈ ڈاؤنز آئیں گے، ہم نے مل کر مشکلات کا مقابلہ کرنا اور ان کو ہرانا ہے۔

 

شیئر: