Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تعطیلات کی فیس‘ پر ضلعی انتظامیہ اور نجی سکول آمنے سامنے، قانون کیا کہتا ہے؟

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کا موقف ہے کہ ’نجی سکول تعطیلات کے دوران فیس وصول نہیں کر سکتے‘ (فائل فوٹو: ضلعی انتظامیہ)
کوئٹہ ویسٹ کی ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ سردیوں کی تعطیلات کے دوران فیس وصول کرنے والے نجی سکولوں کو سیل اور اُن کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب نجی سکولوں کی تنظیموں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سرد علاقوں میں ہر سال دسمبر سے یکم مارچ تک جبکہ گرم علاقوں میں مئی سے جولائی تک تعلیمی ادارے اڑھائی سے تین ماہ بند رہتے ہیں۔ 
ان مہینوں میں نجی سکولوں کی فیس وصولی ایک عرصے سے والدین اور سکولوں کے درمیان بحث کا موضوع رہی ہے۔ اب یہ معاملہ ضلعی انتظامیہ اور نجی سکولوں کے درمیان تنازع بن گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی نے کچلاک میں کھلی کچہری کے دوران ایک شہری کی شکایت کے جواب میں بتایا کہ ’حکومتی پالیسی اور عدالتی فیصلوں کے مطابق نجی سکول تعطیلات کے دوران فیس وصول نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کسی سکول کے خلاف ثبوت ہمارے ہاتھ آیا تو یہ وعدہ ہے کہ اس سکول کو سیل کرکے رجسٹریشن منسوخ کر دیں گے۔‘
اس بیان کے بعد ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کے دفتر سے 9 اکتوبر کو ایک باقاعدہ مراسلہ جاری کیا گیا جس میں تمام نجی سکولوں کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ 
مراسلے کے مطابق والدین کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض سکول تعطیلات کے دوران پوری فیس وصول کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کے دفتر سے جاری کیے گئے مراسلے میں سپریم کورٹ کے 13 دسمبر 2018 کے حکم نامے اور 18 ستمبر 2019 کے تفصیلی فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ 
مراسلے کے مطابق ’جن سکولوں نے ایسی فیس وصول کر لی ہے وہ اس کا 50 فیصد طلبہ کو واپس کریں گے یا آئندہ مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کریں گے۔ اضافی وصول کی گئی رقم بھی مستقبل کی فیس میں ایڈجسٹ ہوگی۔‘
اسی مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ حکم بغیر کسی استثنیٰ کے ملک بھر کے تمام نجی سکولوں پر لاگو ہوتا ہے۔‘

نجی سکولوں کی تنظیموں نے ڈپٹی کمشنر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے (فائل فوٹو: ضلعی انتظامیہ)

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’البتہ جو سکول سردیوں کی تعطیلات میں کلاسیں جاری رکھتے ہیں وہ حاضری کے ریکارڈ اور تعلیمی سرگرمیوں کا ثبوت ڈائریکٹوریٹ آف سکولز ایجوکیشن اور ڈپٹی کمشنر آفس کو فراہم کر کے اس مدت کی فیس لے سکتے ہیں۔‘
ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے والے سکولوں کو سیل کیا جا سکتا ہے، اُن کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش کی جا سکتی ہے اور توہینِ عدالت کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دیا تھا؟
ڈپٹی کمشنر نے جس فیصلے کا حوالہ دیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 2018 میں والدین کے احتجاج پر ازخود نوٹس کیس میں دیا تھا۔ 
اس کے تحت پانچ ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی سکولوں کی فیس میں 20 فیصد کمی اور سالانہ اضافے کی حد پانچ فیصد مقرر کی گئی۔ 
عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ نجی سکول دو ماہ کی تعطیلات کی فیس کا 50 فیصد والدین کو واپس کریں یا اسے آئندہ فیسوں میں ایڈجسٹ کریں۔
نجی سکولوں کا ردِعمل

نجی سکولوں کی تنظیم کے مطابق ’پرائیویٹ سکولز ڈپٹی کمشنر کے ماتحت نہیں ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن بلوچستان کے صدر نذر محمد بڑیچ نے ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق نجی سکول ڈپٹی کمشنر کے ماتحت نہیں ہیں۔
ان کے مطابق فیس اور رجسٹریشن کا قانونی طریقۂ کار موجود ہے مگر ڈپٹی کمشنر نے اسے اپنانے کے بجائے سیاسی بیانیے کے انداز میں بیان دے کر والدین اور سکولوں کے درمیان بدگمانی پیدا کی۔ 
نذر محمد بڑیچ نے کہا کہ غیر قانونی اقدامات کی صورت میں سڑکوں پر احتجاج ہوگا اور ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے کلاسیں لگائی جائیں گی۔
بلوچستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز الائنس کے صدر ملک رشید کاکڑ اور دیگر عہدے داروں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نجی ادارے قانون کا احترام کرتے ہیں تاہم کسی بھی کارروائی کی قانونی بنیاد اور دائرۂ اختیار واضح ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کے بیان سے والدین اور سکولوں کے درمیان غلط فہمیاں اور تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔
الائنس کا مؤقف ہے کہ مراسلے میں جس عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کووڈ-19 کی غیر معمولی صورتِ حال سے متعلق تھا، اس لیے اس کے اصل متن اور موجودہ اطلاق کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ’جن سکولوں نے فیس وصول کر لی ہے وہ اسے آئندہ مہینوں کی فیس میں ایڈجسٹ کریں گے‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

تاہم مراسلے میں سپریم کورٹ کے جن فیصلوں کا ذکر ہے وہ دسمبر 2018 اور ستمبر 2019 کے ہیں جبکہ پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتِ حال 2020 کے آغاز میں پیدا ہوئی۔
رشید کاکڑ نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ساڑھے تین ہزار کے قریب نجی سکول ہیں جن میں 9 لاکھ سے زیادہ طلبہ پڑھتے ہیں اور ہزاروں اساتذہ و غیر تدریسی عملے کا روزگار بھی ان سے وابستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے سکول  زیادہ تر گلی محلوں میں چھوٹے تعلیمی ادارے ہیں، بیشتر کی فیس ایک ہزار سے چار ہزار روپے ہے اور کسی کی بھی پانچ ہزار روپے سے زیادہ نہیں۔
’صوبے میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور بیشتر سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، ایسے میں ان چھوٹے تعلیمی اداروں کا تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔‘
رشید کاکڑ نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈپٹی کمشنر ان بڑے اور مہنگے تعلیمی اداروں کے خلاف بھی کارروائی کریں گے جن کی فیس 15 سے 20 ہزار روپے یا اس سے زیادہ ہے اور جہاں اعلیٰ سرکاری عہدے داروں اور طاقتور خاندانوں کے بچے پڑھتے ہیں۔

تعطیلات میں نجی سکولوں کی فیس وصولی والدین اور سکولوں کے درمیان ہمیشہ بحث کا موضوع رہی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ہمیں والدین کے مالی مسائل کا احساس ہے تاہم سکولوں کے اخراجات (اساتذہ کی تنخواہیں، عمارتوں کے کرائے، بجلی، گیس اور پانی کے بل) سال بھر جاری رہتے ہیں۔
الائنس نے وزیراعلٰی، وزیرِ تعلیم اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ فریقین کے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے واضح، شفاف اور یکساں پالیسی بنائی جائے۔
صوبائی قانون کیا کہتا ہے؟
بلوچستان میں نجی سکولوں اور کالجوں سے متعلق 2022 میں بلوچستان پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز رجسٹریشن، ریگولیشن اینڈ پروموشن ایکٹ  منظور کیا گیا۔
اس ایکٹ کے تحت نجی سکولوں کی رجسٹریشن اور فیسوں سمیت دیگر معاملات ڈائریکٹر ایجوکیشن (سکولز) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
صرف ڈائریکٹر ایجوکیشن ہی ضلعی معائنہ کمیٹی کی رپورٹ پر رجسٹریشن منظور یا مسترد کر سکتا ہے۔ اس کمیٹی میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن، مرد و خواتین ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) بھی شامل ہوتے ہیں۔

نجی تعلیمی اداروں نے وزیراعلٰی اور وزیرِ تعلیم سے مطالبہ ہے کیا کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

اس قانون کی شق پانچ کی ذیلی شق ایک کی قریباً سات دفعات فیسوں کے ضوابط سے متعلق ہیں، تاہم قانون میں سردیوں یا گرمیوں کی تعطیلات کی فیس کے بارے میں کوئی دفعہ یا ذکر موجود نہیں۔
قانون کے مطابق فیس کا ڈھانچہ رجسٹریشن اتھارٹی معائنہ کمیٹی کی سفارش پر طے کرتی ہے اور اس کی منظوری کے بغیر سکول فیس میں اضافہ یا تبدیلی نہیں کر سکتے۔ 
داخلہ اور رجسٹریشن فیس ماہانہ فیس کے 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی جبکہ سالانہ اضافہ موجودہ فیس کے پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔ 
قانون میں لکھا ہے کہ ایک ہی سکول میں بہن بھائیوں کے زیرِ تعلیم ہونے کی صورت میں تمام بچوں کی فیس نصف وصول کی جائے گی۔
قانون کے تحت تعلیمی سال کے دوران فیس سٹرکچر یا فیس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اگر پہلے بچے کے بہن بھائی اسی سکول میں داخل ہوں تو پہلے بچے سمیت تمام بچوں کی فیس نصف ہوگی۔
’اگر کوئی سکول فیس کی شرح میں تبدیلی چاہتا ہو تو وہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے 90 دن قبل وجوہات سمیت درخواست جمع کرائے گا۔‘

ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ’نجی تعلیمی ادارے ضلعی انتظامیہ کے نہیں محکمہ تعلیم کے ماتحت ہیں‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک فوٹو)

ایکٹ کی دفعہ پانچ کی ذیلی شق ایک کی دفعہ سات کے مطابق کسی نجی ادارے کی ماہانہ مجموعی فیس 10 ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوگی۔
’تاہم بلوچستان میں کئی ادارے اس سے زیادہ فیس وصول کر رہے ہیں جس سے اس قانون کے عملی نفاذ پر سوال اٹھتے ہیں۔‘
ڈائریکٹوریٹ آف سکولز ایجوکیشن کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ قانون کے تحت نجی تعلیمی ادارے ضلعی انتظامیہ کے نہیں بلکہ محکمہ تعلیم کے ماتحت ہیں۔
’ان کی رجسٹریشن یا منسوخی بھی صرف محکمہ تعلیم کر سکتا ہے لہٰذا ان کے خلاف کسی کو شکایت ہو تو اسے محکمہ تعلیم سے رجوع کرنا چاہیے۔‘
افسر کے مطابق قانون سردیوں اور گرمیوں کی تعطیلات کے دوران فیس وصولی کے بارے میں خاموش ہے تاہم قانون میں اپنی مرضی سے فیسوں میں اضافے اور ماہانہ 10 ہزار روپے سے زائد فیس وصولی کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی بڑے نجی ادارے اس سے دو گنا فیس وصول کر رہے ہیں اور ایسے اداروں کے خلاف کارروائی سمیت فیسوں سے متعلق قانونی دفعات پر عمل کرنے میں محکمہ کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شیئر: