Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور بیت اللہ پاکستانیوں کی ریڈلائن ہے: پاکستانی سیاسی و مذہبی رہنما

مذہبی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب اور حرمین شریفین کا تحفظ سب کے ایمان کا حصہ ہے‘ (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے سعودی شہریوں اور عمرہ زائرین پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’سعودی عرب اور حرمین شریفین کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔‘
منگل کو پاک سعودی یکجہتی کونسل کے تحت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ ’کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا کہ حرمین شریفین یا زائرین پر حملہ کیا جائے۔‘
انہوں نے پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد امن کا قیام ہے اور اس کے بارے میں حکومت کا موقف بالکل واضح ہے۔
’وزیراعظم اور وزیر دفاع نے ہر لحاظ سے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ معاہدے سے قبل بھی پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کا ساتھ دیتا آیا ہے۔‘
سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق ’سعودی عرب پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کے عوام متحد اور متفق ہیں کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔‘
سعودی عرب اور بیت اللہ پاکستانیوں کی ریڈلائن ہے: سینیٹر حافظ عبدالکریم
سینیٹر حافظ عبدالکریم نے بھی حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سعودی عرب اور عمرہ زائرین پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور بیت اللہ تمام پاکستانیوں کی ریڈلائن ہے۔‘
’سعودی عرب مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز و محور ہے‘
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا غفور حیدری نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر حکومت اور عوام کا موقف ایک ہی ہے۔
ان کے مطابق ’کچھ قوتوں کو پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے سے تکلیف پہنچی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب محض ایک ملک نہیں ہے، یہ ہمارے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے اور مسلمانوں کی عقیدت کا محور و مرکز ہے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کا انتظام کیا جائے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا سعودی عرب کے دفاع کے لیے بروقت اقدمات ہونے چاہییں۔

شیئر: