Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلامی رہنماؤں کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، زائرین کی سلامتی کو خطرہ

سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور، دعوت و رہنمائی عبداللطیف آل الشیخ کو 70 سے زیادہ ممالک کے 176 وزرا، علمائے کرام، مفتیانِ عظام اور اسلامی تنظیموں کے سربراہان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں یمن میں حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان پیغامات میں حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی جن میں اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے اور 309 زخمی ہوئے۔
جان سے جانے والوں میں بعض عمرہ زائرین بھی شامل تھے جن میں بنگلہ دیش کے اسلامی سکالر نصراللہ البدر بھی تھے۔ وہ عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جا رہے تھے اور اُس وقت احرام کی حالت میں تھے۔
پیغامات میں کہا گیا کہ حوثی حملے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حرمین شریفین کی سلامتی کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں پر موجود شہریوں، مسافروں اور عمرہ زائرین کی جانوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پیغامات میں مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ، امن و استحکام برقرار رکھنے اور مقدس اسلامی مقامات کی حرمت کے تحفظ کے لیے سعودی حکام کے تمام اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔
پیغامات میں مزید کہا گیا ہے کہ حوثی حملے انسانی جانوں کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پیغامات میں مسلمانوں پر زور دیا گیا کہ وہ حملوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں۔
پیغامات میں خبردار کیا گیا ہے کہ سعودی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بے گناہ افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو حرمین شریفین میں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے بھی روک سکتی ہیں۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم اور کونسل آف سینیئر سکالرز کے چیئرمین صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان نے ان حملوں کو ’اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین جرائم میں سے ایک قرار دیا جس پر انہوں نے دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔‘
انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جو شخص اہلِ مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔‘
الفوزان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ حوثیوں جیسے ’مجرم‘ گروہوں کو، جو اسلامی مقدسات اور اللہ کے مقدس گھر کی حرمت پامال کرتے ہیں، بالآخر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خانہ کعبہ کا ذکر کیا۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان مجرموں کا خاتمہ فرمائے اور ہمارے ملک اور مسلم ممالک کی حفاظت فرمائے۔‘

شیئر: