مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد کو آگ لگا دی، دیواروں پر نفرت انگیز نعرے درج
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد کو آگ لگا دی، دیواروں پر نفرت انگیز نعرے درج
بدھ 14 اکتوبر 2026 16:29
حالیہ مہینوں کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: روئٹرز)
فلسطینی علاقوں میں بدھ کو اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں مخماس میں ایک مسجد کو آگ لگا دی اور اِس کی بیرونی دیواروں پر نعرے بھی تحریر کیے۔ فلسطینی ذرائع اور اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
مخماس کے رہائشی عطا کنعان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی نصف شب کے کچھ ہی دیر بعد انہیں شیشے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی، جس پر وہ فوراً مسجد کی طرف روانہ ہوگئے۔عطا کنعان کا گھر مسجد سے صرف 50 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’مسجد میں شدید آگ لگی ہوئی تھی جس پر ہم نے فائر بریگیڈ کو اطلاع دی۔ نوجوان آگ بجھانے والے آلات لے کر ہماری مدد کے لیے پہنچ گئے۔ ہم آگ کے شعلوں کو پوری مسجد کو اپنی لپیٹ میں لینے سے قبل اس کے ایک حصے پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے۔‘
اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ مسجد پر نعرے لکھے جانے اور اسے آگ لگائے جانے کے علاوہ ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کی اطلاع ملنے کے بعد فوجیوں کو مخماس روانہ کیا گیا۔
فوج کے مطابق، کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہوسکی جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اے ایف پی کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آگ سے مسجد کے اندر بچھے قالین جل گئے اور دیواریں سیاہ ہوگئیں۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ مسجد کی بیرونی دیواروں پر عبرانی زبان میں سپرے پینٹ سے نعرے لکھے گئے تھے۔ ان میں ایک نعرہ یہ تھا کہ ’صرف اس لیے کہ ہم خاموش ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سو رہے ہیں۔‘
عطا کنعان کے مطابق، آبادکاروں نے ایک گاڑی کو بھی نذرِ آتش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران گاؤں کے لوگوں نے رات کے وقت پہرے داری کے لیے گشت کرنے والے گروہ تشکیل دیے ہیں، کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ آبادکار گھروں کو آگ لگا سکتے ہیں اور خاص طور پر گاؤں کے بیرونی علاقوں میں واقع گھروں کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
مخماس مغربی کنارے کے وسطی حصے میں رام اللہ اور یروشلم کے درمیان واقع ہے۔ اس کے قریب اسرائیلی بستیوں کی کئی ایسی چوکیاں قائم ہیں جن کے رہائشی گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد مرتبہ اس گاؤں کی آبادی پر حملے کرچکے ہیں۔
مسجد کی بیرونی دیواروں پر عبرانی زبان میں سپرے پینٹ سے نعرے لکھے گئے تھے (فوٹو: روئٹرز)
فلسطینی نیشنل کونسل کے صدر روحی فتوح نے مسجد کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے کو ’وحشیانہ کارروائی اور آبادکاروں کی دہشت گردی میں خطرناک اضافے ‘ سے تعبیر کیا۔
فلسطینی نیشنل کونسل، فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی پارلیمان کے طور پر کام کرتی ہے۔
حالیہ مہینوں کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینیوں پراسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آبادکاروں کے حملوں میں جسمانی تشدد، زمینوں اور فصلوں پر قبضے، عبادت گاہوں، گھروں اور دیگر عمارتوں میں توڑ پھوڑ جیسی کارروائیاں شامل ہیں۔
مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں جس میں مشرقی یروشلم کی آبادی شامل نہیں۔ اسرائیل نے 1967 سے اِس علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی علاقے میں پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی بھی ایسی بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔