Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی یروشلم میں کولمبیا کا سفارتخانہ کھولے جانے کی مذمت

اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔( فوٹو: اے پی)
سعودی عرب نے بدھ کو مقبوضہ کولمبیا کی حکومت کی جانب سے  مقبوضہ یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے بیان میں اسے شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو سبوتاژ کرنے کرنے والا فیصلہ قرار دیا۔
یہ اقدام یروشلم کے تاریخی اورقانونی موقف کے حوالے سے متفقہ بین الاقوامی موقف کے منافی ہے۔
سعودی عرب نے اقوام متحدہ  کی سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی پر زور دیا کہ وہ متنازع شہر کی حیثت تبدیل کرنے سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔
مملکت نے بین الاقوامی فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اسرائیل کو طاقت کے بل پر نئی حقیقت مسلط کرنے سے روکا جائے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات منصفانہ اور پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
اردن کی وزارت خارجہ نے یروشلم کی حیثیت یا قانونی موقف کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے اسے کالعدم، ناجائز اورغیر قانونی قرار دیا۔ 
اردن کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان نے کہا چار جون 1967 کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت یروشلم ہو خطے میں منصفانہ اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
یاد رہے کولمیبا نے بدھ کو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ کھولا ہے جس کے ساتھ وہ اس شہر میں سفارتی مشن قائم کرنے والا دسواں ملک بن گیا جہاں اسرائیل بین الاقوامی مخالفت کے باوجود خود محتاری کا دعوی کرتا ہے۔
امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران 2018 میں اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کیا تاہم چین، فرانس، برطانیہ، روس اور جرمنی جیسی علاقائی طاقتوں سمیت بیشتر ملکوں نے اپنے سفارتخانے تل ابیب میں برقرار رکھے ہیں۔

 

شیئر: