المخرط سیزن: مملکت میں مکئی کی کاشت کا آغاز
جازان کے لوگ دسمبر کے آخر اور جنوری کے شروع میں ’خضیر‘ کے مرحلے کا انتظار کرتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
اکتوبر کی آمد کے ساتھ ہی جازان کے خطے میں مکئی کے کسانوں نے اپنے کھیتوں کی ہل جوتنے، لکیریں ڈالنے اور مکئی کے بیج بونے کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ سرگرمیاں ’المخرط سیزن‘ کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہیں جو مقامی کیلنڈر کے چار سب سے نمایاں زرعی سیزنز میں سے ایک ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ کام ہر سال دہرایا جاتا ہے جو کسانوں کے اپنی زمین کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھتا ہے اور زرعی علم کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتا ہے۔
زرعی محقق محمد ابو عقیل نے وضاحت کی کہ مقامی زرعی کیلنڈر میں ’الخریف‘ سیزن شامل ہے جو 23 اگست کو شروع ہوتا ہے، جس کے بعد 11 سے 26 اکتوبر تک ’مزارات المخرط‘ سیزن آتا ہے۔ تاہم کچھ کسان مہینے کے شروع میں ہی بیج بونا شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’سودات‘ سیزن 31 دسمبر کو شروع ہوتا ہے جبکہ ’الشب‘ سیزن پہاڑی گورنریٹس میں گرمیوں میں آتا ہے۔ یہ سیزنز میدانوں، وادیوں اور پہاڑوں میں خطے کے زرعی ماحول کے تنوع کی عکاسی کرتے ہیں۔
کھیت تیار کرنا بیج بونے سے پہلے ہوتا ہے اور بارش کی نگرانی اور سیلابی پانی کے بہاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔ اس میں جھاڑیوں اور جنگلی گھاس کو صاف کرنا اور مٹی کے بند ’عقوم‘ کی مرمت کرنا شامل ہے جو سیلابی پانی کو روکنے اور اسے آبپاشی کے راستوں کے ذریعے کھیتوں میں پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

خطے کے کسان اپنے بچوں کو اپنا زرعی علم اور تجربہ منتقل کرنے کے شوقین ہیں اور اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملنے والی چیزوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ کم عمری سے ہی وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں جاتے اور ان سے کاشتکاری سیکھتے ہیں یہاں تک کہ زمین کی دیکھ بھال ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔

جازان کے لوگ دسمبر کے آخر اور جنوری کے شروع میں ’خضیر‘ کے مرحلے کا انتظار کرتے ہیں۔ اس مرحلے کے دوران مکئی کی بالیوں کو مکمل پکنے سے پہلے سبز حالت میں توڑا جاتا ہے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایتی ڈشیں بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ زرعی ورثہ کسانوں کی زندگیوں اور مقامی خاندانوں کے دسترخوانوں پر زندہ ہے۔
