جدہ، ریاض اور دمام میں ٹریفک ازدحام سے سالانہ 18 ارب ریال کا نقصان
ٹریفک ازدحام عام طور پر شام 5 بجے کے قریب ہوتا ہے ( فوٹو: عرب نیوز)
کنگ سعود یونیورسٹی ٹریفک اینڈ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد حمد المناع نے کہا ہے کہ جدہ، ریاض اور دمام میں ٹریفک ازدحام سے ہونے والے معاشی نقصان کا تخمینہ سالانہ تقریبا 18 ارب ریال لگایا گیا ہے۔
اخبار 24 کے مطابق انہوں نے کہا ریاض اکنامک فورم کے سیشن میں ’بڑے شہروں میں ٹریفک ازدحام کے اثرات، اس کی اہم وجوہ اور چیلنجز‘ کے عنوان سے پیش کی جانے والی تحقیق میں اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مطالعاتی ٹیم نے ٹریفک ازدحام کے باعث ہونے والے معاشی نقصان کی پیمائش کرنے والے انڈیکس سی سی آئی کا استعمال کیا جو ٹریفک کی روانی اور ازدحام پر ہونے والی لاگت کا تخمینہ پیش کرتا ہے۔
یہ انڈیکس معاشی، سماجی، نفسیاتی اور دیگر شعبوں سے متعلق آٹھ مختلف عوامل کی بنیاد پر ٹریفک ازدحام کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
مطالعاتی ٹیم نے مملکت کی سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال اور گاڑیوں کی اوسط رفتار کے حوالے سے اعداد وشمار جمع کیے۔ یہ ڈیٹا سال 2016 سے 2026 تک تھا۔
اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ٹریفک کی صورتحال میں کیا تبدیلی آئی ہے۔
جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ تینوں شہر(جدہ، ریاض اور دمام) میں شام کے اوقات میں ٹریفک کا ازدحام صبح کی نسبت سے زیادہ ہوتا ہے۔
اعداد وشمار سے معلوم ہوا کہ تینوں شہروں میں ٹریفک ازدحام عام طور پر شام کے 5 بجے کے قریب ہوتا ہے جو دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔
