کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ سرد موسم کے بعد آپ معمول سے زیادہ تھکاوٹ محسوس کر رہے ہوں، توانائی کی کمی کا شکار ہوں یا معمولی باتوں پر چڑچڑے ہو جاتے ہوں؟
عام نزلہ زکام جیسے وائرل انفیکشنز کے بعد جسم اکثر ایسی کیفیت سے گزرتا ہے جسے سردی سے وابستہ تھکن کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان تھکاوٹ اور توانائی کی کمی محسوس کرتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ مدافعتی نظام ابھی صحت یابی کے مرحلے میں ہوتا ہے، جس سے جسمانی طاقت کم ہوتی ہے اور جسم میں غذائی اجزا کو توانائی میں تبدیل کرنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ مکمل طور پر صحت یاب ہو جانے یا علامات میں کمی آنے کے باوجود بھی انسان سستی، ذہنی دھندلاہٹ اور کام کرنے کی جانب کم رغبت محسوس کر سکتا ہے۔
بی ایم سی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، سردیوں میں سورج کی روشنی کم ملنے سے جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ جسم کا اندرونی 24 گھنٹے کا نظام ہے، جو دن اور رات کے مطابق نیند، بیداری، ہارمونز کے اخراج، ہاضمے اور جسم کے دیگر اہم افعال کو منظم کرتا ہے۔
سردی سے وابستہ تھکن کیا ہے؟
سرد موسم میں طویل عرصے تک رہنے اور اِس موسم میں پھیلنے والے وائرل انفیکشنز کا سامنا کرنے سے ایسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جسے ماہرینِ نفسیات اکثر سردی سے وابستہ تھکن قرار دیتے ہیں۔ سردیوں کے طویل عرصے کے دوران بہت سے لوگ اُداسی، سستی اور باہر نکلنے کی رغبت میں کمی کی شکایت کرتے ہیں، خصوصاً جب دھوپ کم نکلتی ہو۔
مزید پڑھیں
-
کیا ناشپاتی دل کی صحت اور شوگر کے علاج میں مفید ہے؟Node ID: 909279
علاوہ ازیں، سردیوں کا موسم موسمی افسردگی کی ہلکی کیفیت (سیزنل ایفیکٹیو ڈس آرڈر یا ایس اے ڈی) کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ اس سے توانائی مزید کم ہو جاتی ہے اور انسان کو اپنے معمول کے کام بھی سست رفتاری سے انجام پاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
اس کیفیت کی علامات عموماً زیادہ نمایاں نہیں ہوتیں۔ ممکن ہے کہ آپ زیادہ دیر تک بستر میں رہنا چاہیں، ورزش چھوڑ دیں یا دوستوں کے ساتھ ملنے جلنے کے منصوبے منسوخ کرنے لگیں۔ روزمرہ کے معمولات بھی معمول سے زیادہ مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ بعض افراد مناسب نیند لینے کے باوجود مسلسل بے دلی، ذہنی بوجھ یا چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں۔
سردی سے وابستہ تھکن کی وجوہات کیا ہیں؟
سردیوں کا طویل موسم گزرنے اور بہار کی آمد کے باوجود بہت سے لوگ سستی، کام کرنے کی رغبت میں کمی اور تھکاوٹ محسوس کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، نیند، خوراک اور جسمانی سرگرمیوں میں معمولی تبدیلیاں توانائی بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ سردیوں کے بعد تھکاوٹ کی چند نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں:
وائرل انفیکشنز: سردیوں میں انفلوئنزا اور رائنو وائرس جیسے کئی وائرس زیادہ دیر تک ہوا اور مختلف سطحوں پر زندہ رہ سکتے ہیں۔ رائنو وائرس عام نزلہ زکام کا سبب بنتا ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی: سورج کی روشنی کم ملنے سے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح گِر سکتی ہے۔ یہ وٹامن توانائی برقرار رکھنے، مزاج کو متوازن رکھنے اور مدافعتی نظام کی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔
جسمانی سرگرمیوں میں کمی: سرد موسم اکثر لوگوں کو گھر سے باہر ورزش کرنے سے روکتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کا میٹابولزم سست پڑ سکتا ہے اور جسمانی قوتِ برداشت کم ہو سکتی ہے۔
خوراک میں تبدیلیاں: سردیوں میں نسبتاً بھاری غذا کا زیادہ استعمال اور کھانے پینے کے اوقات میں بے قاعدگی سستی اور کاہلی کا باعث بن سکتی ہے۔
سردی سے وابستہ تھکن سے نمٹنے کے لیے مفید تجاویز
ماہرین اکثر اس کیفیت سے نمٹنے کے لیے ایک اور طریقہ تجویز کرتے ہیں، اور وہ ہے سرد موسم کو حقیقت کے طور پر قبول کرنا۔ سردی سے مسلسل لڑتے رہنا یا ہر وقت یہ خواہش کرنا کہ یہ موسم جلد ختم ہو جائے، ذہنی کوفت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کی بجائے، سردیوں کے مطابق اپنے معمولات میں تبدیلی لانے سے ذہنی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
< چائے یا کافی کا گرم کپ، گھر میں تیار کردہ پسندیدہ اور تسکین بخش کھانے، گرم کمبل اور پُرسکون سرگرمیاں، مثلاً مطالعہ کرنا، اُون بُننا یا موسیقی سننا، مزاج کو خوش گوار بنانے میں حیرت انگیز طور پر مدد دے سکتی ہیں۔

< بعض لوگ سرد مہینوں میں ذہنی سکون اور یکسوئی برقرار رکھنے کے لیے یوگا اور مراقبے کا سہارا لیتے ہیں۔
< سونے اور جاگنے کے اوقات باقاعدہ رکھیں اور رات گئے تک سکرین استعمال کرنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
< اس کیفیت سے نمٹنے کا ایک آسان ترین طریقہ سورج کی روشنی میں وقت گزارنا ہے۔ دھوپ کے اوقات میں کچھ دیر کے لیے بھی باہر نکلنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ صبح کی دھوپ جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے اور سیروٹونن کی سطح بڑھاتی ہے۔ سیروٹونن ایک کیمیائی مادہ ہے جو مزاج کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
< دھند والے دنوں میں بھی دن کی روشنی کے دوران کھڑکی کے قریب یا بالکونی میں بیٹھنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔













