Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا واک ذیابیطس کی دوا کے بغیر بھی بلڈ شوگر کنٹرول کر سکتی ہے، حقیقت کیا ہے؟

ذیابیطس کی مختلف دوائیں مختلف انداز میں کام کرتی ہیں (فائل فوٹو: پکسابے)
چہل قدمی (واک) صحت مند زندگی کا ایک آسان، سستا اور مؤثر طریقہ سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے روزانہ پیدل چلنا بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
باقاعدہ چہل قدمی نہ صرف جسمانی فٹنس کو بہتر بناتی ہے بلکہ بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے، وزن کم کرنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
اسی وجہ سے بعض لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ چہل قدمی ذیابیطس کی دواؤں سے زیادہ مؤثر ہے یا پھر دواؤں کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ تصور درست نہیں ہے۔
چہل قدمی کے دوران جسم کے پٹھے توانائی حاصل کرنے کے لیے خون میں موجود گلوکوز استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل سے خون میں شکر کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔
مزید یہ کہ مسلسل جسمانی سرگرمی انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس کی بدولت جسم انسولین کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ چہل قدمی کرنے والے افراد میں بلڈ شوگر کی سطح نسبتاً بہتر رہ سکتی ہے۔
لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چہل قدمی ذیابیطس کی دواؤں کا متبادل بن سکتی ہے۔ ذیابیطس کی مختلف دوائیں مختلف انداز میں کام کرتی ہیں۔
کچھ دوائیں انسولین کی پیداوار میں مدد دیتی ہیں، کچھ جسم میں انسولین کے مؤثر استعمال کو بہتر بناتی ہیں جبکہ کچھ جگر میں گلوکوز کی پیداوار کم کرتی ہیں۔ بعض مریضوں میں جسم اتنی مقدار میں انسولین نہیں بنا پاتا کہ صرف ورزش سے شوگر قابو میں آسکے، اس لیے دواؤں کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔
طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف اس وجہ سے کہ چہل قدمی کے بعد شوگر ریڈنگ بہتر آرہی ہے، اپنی دوائیں بند کر دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ دواؤں کو اچانک چھوڑنے سے بلڈ شوگر خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے اور دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واک ذیابیطس کے انتظام کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہیں لیکن یہ دوا کا متبادل نہیں (فائل فوٹو: پکسابے)

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کا بہترین طریقہ دواؤں، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور بلڈ شوگر کی نگرانی کو یکجا کرنا ہے۔ اگر ڈاکٹر اجازت دیں تو ہفتے میں کم سے کم 150 منٹ معتدل شدت کی ورزش، مثلاً تیز رفتاری سے چلنا، مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کھانے کے بعد 10 سے 15 منٹ کی مختصر واک بھی بلڈ شوگر کے اچانک اضافے کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ سبزیوں، دالوں، ثابت اناج اور پروٹین سے بھرپور متوازن غذا کا استعمال ضروری ہے۔ میٹھے مشروبات، مٹھائیاں اور زیادہ پراسیس شدہ غذائیں محدود مقدار میں کھانی چاہئیں۔ مناسب نیند اور ذہنی دباؤ میں کمی بھی بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مختصر یہ کہ واک ذیابیطس کے انتظام کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہیں لیکن یہ دوا کا متبادل نہیں۔ بہترین نتائج کے لیے مریضوں کو اپنے ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق دوائیں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا چاہیے۔ اس طرح بلڈ شوگر کو بہتر طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

 

شیئر: