Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچوں میں نیند کی کمی، کیا والدین بچوں کو اندازے سے کم سلا رہے ہیں؟

سروے کے مطابق44 فیصد امریکی بچے اپنی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں لے رہے (فوٹو: پکسابے)
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق جتنی نیند درکار ہوتی ہے وہ اکثر اس سے کم سوتے ہیں، جس کے سنگین نتائج پورے خاندان کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نیوز چیبل سی این این کے مطابق نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے کہا ہے نومولود بچوں کے لیے 14 سے 17 گھنٹے، شیرخوار بچوں کے لیے 12 سے 15، ٹوڈلرز کے لیے 11 سے 14، پری سکولرز کے لیے 10 سے 13 اور سکول جانے والے بچوں کے لیے 9 سے 11 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔
تاہم ایک تازہ سروے کے مطابق44  فیصد امریکی بچے اپنی عمر کے مطابق مناسب نیند نہیں لے رہے، اور چھوٹے بچوں میں یہ کمی زیادہ پائی گئی ہے۔
فاؤنڈیشن کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوزف جیرزیوسکی کے مطابق نیند صرف انفرادی عمل نہیں بلکہ سماجی رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی نیند ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بنیاد کا کام کرتی ہے اور آئندہ زندگی کے نیند کے معمولات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ سروے 977 نگہداشت کرنے والوں کے درمیان کیا گیا جن میں 53 فیصد حقیقی مائیں، 33 فیصد حقیقی باپ جبکہ دیگر میں سوتیلے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر شامل تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ 95 فیصد والدین اس بات سے متفق ہیں کہ اچھی نیند خاندان کی مجموعی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ 80 فیصد نے بتایا کہ بچوں کی خراب نیند ان کی اپنی نیند کو متاثر کرتی ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ 74 فیصد والدین روزانہ اپنے بچوں کی نیند کے بارے میں سوچتے ہیں، مگر پھر بھی اکثر والدین بچوں کی اصل ضرورت کے مقابلے میں کم نیند کا اندازہ لگاتے ہیں۔ خاص طور پر 0 سے 3 ماہ کے بچوں کے والدین میں 78 فیصد اپنے بچوں کی نیند کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مختصر نیند (نیپ) بچوں کے مجموعی نیند کے وقت میں اہم کردار ادا کرتی ہے (فوٹو: پکسابے)

ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ تقریباً نصف والدین اپنے بچوں سے نیند کی اہمیت پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کو نیند کے فوائد سادہ الفاظ میں سمجھانا ضروری ہے، جیسے ذہنی اچھی حالت، جسمانی مضبوطی اور بہتر سیکھنے کی صلاحیت۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مختصر نیند (نیپ) بچوں کے مجموعی نیند کے وقت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر 93 فیصد بچے باقاعدگی سے نیپ لیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیپ روکنے سے رات کی نیند بہتر نہیں ہوتی بلکہ بچے مزید چڑچڑے ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ سونے کا وقت، سونے سے پہلے پرسکون معمول، روشنی کم کرنا اور کہانیاں پڑھنا بچوں کی صحت مند نیند کے لیے بہترین طریقے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نیند بہتر بنانے کے لیے والدین کو خود بھی صحت مند نیند کی مثال قائم کرنا ہوگی، کیونکہ بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔

 

شیئر: