روزانہ چہل قدمی کے صحت کے سات فوائد، 10 ہزار قدم کا ہدف ضروری نہیں
ذہنی صحت کے حوالے سے بھی واک کے مثبت اثرات سامنے آئے۔ (تصویر: پکسابے)
روزانہ کچھ دیر چہل قدمی کو صحت مند زندگی کا آسان اور مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ہر روز 10 ہزار قدم چلنے کا مشہور ہدف سائنسی بنیاد سے زیادہ 1960 کی دہائی کی ایک جاپانی مارکیٹنگ مہم کا نتیجہ نکلا۔
برطانوی اخبار ’ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ چہل قدمی کے لیے کسی مخصوص تعداد میں قدم پورے کرنا ضروری نہیں، معمولی واک بھی صحت کے لیے نمایاں فوائد رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیدل چلنے کے سات اہم فوائد سامنے آئے ہیں۔ ان میں وزن کم کرنے میں مدد، ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی، دل کی صحت میں بہتری، دماغی کارکردگی میں اضافہ، بعض اقسام کے سرطان کے خطرے میں کمی، موڈ بہتر ہونا اور عمر میں اضافے سے متعلق فوائد شامل ہیں۔
ٹیلی گراف کے مطابق ایک اوسطاً 180 پاؤنڈ وزن رکھنے والا شخص تیز رفتاری سے ایک میل چلنے پر تقریباً 100 کیلوریز خرچ کرتا ہے، جبکہ زیادہ تیز رفتار سے یہ تعداد تقریباً 130 کیلوریز تک پہنچ سکتی ہے۔ اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق چلنے کی رفتار میں تبدیلی سے مستقل رفتار کے مقابلے میں 20 فیصد تک زیادہ کیلوریز خرچ ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے چلنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ تین سے پانچ کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے چلنے والے افراد میں یہ خطرہ انتہائی سست رفتاری سے چلنے والوں کے مقابلے میں 15 فیصد کم پایا گیا۔
دل کی صحت کے حوالے سے ٹیلی گراف نے بتایا کہ ہفتے میں پانچ دن روزانہ 30 منٹ معتدل رفتار سے چلنے سے فالج کے خطرے میں تقریباً ایک چوتھائی کمی آسکتی ہے۔ باقاعدہ چہل قدمی بلڈ پریشر اور خون میں چربی کی سطح پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیمنشیا کے مریضوں میں ہلکی جسمانی سرگرمی، جس میں چہل قدمی بھی شامل ہے، دماغی کارکردگی بہتر کرنے سے وابستہ پائی گئی۔ امریکی کینسر سوسائٹی کی 2019 کی ایک تحقیق میں ہفتے میں ڈھائی سے پانچ گھنٹے معتدل جسمانی سرگرمی، مثلاً تیز چہل قدمی، کو سات اقسام کے سرطان کے کم خطرے سے منسلک کیا گیا۔
ذہنی صحت کے حوالے سے بھی واک کے مثبت اثرات سامنے آئے۔ ایک تحقیق میں سبز اور قدرتی ماحول میں چہل قدمی کرنے والے 71 فیصد افراد نے ڈپریشن اور ذہنی تناؤ میں کمی جبکہ 90 فیصد نے خود اعتمادی میں اضافے کی اطلاع دی۔
ٹیلی گراف کے مطابق یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین نے تقریباً 70 ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر اندازہ لگایا کہ 60 سال سے زائد عمر کے غیر فعال افراد اگر روزانہ 10 منٹ تیز چہل قدمی شروع کریں تو متوقع عمر میں خواتین کے لیے تقریباً 11 ماہ اور مردوں کے لیے 17 ماہ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چہل قدمی شروع کرنے والوں کو مختصر فاصلے اور ہلکی رفتار سے آغاز کرنا چاہیے اور بتدریج دورانیہ بڑھانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق روزانہ قدموں کی مخصوص تعداد پر توجہ دینے کے بجائے مستقل بنیادوں پر جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا زیادہ اہم ہے۔
