Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پلاسکٹ میں موجود کیمیکلز انسانی صحت کے لیے خطرہ، ماہرین کا اقدامات کرنے پر زور

دنیا کو فوری طور پر پلاسٹک کے ایسے متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو فوسل فیولز سے تیار نہ ہوتے ہوں اور زیادہ محفوظ ہوں (فوٹو: سی این این)
پلاسٹک ہلکا پھلکا، مضبوط اور کم قیمت ہونے کی وجہ سے جدید زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں عام ہو چکا ہے۔ تاہم، تحقیق کا ایک بڑھتا ہوا سلسلہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ پلاسٹک میں استعمال ہونے والے کیمیکلز سے مسلسل واسطہ انسانی زندگی کے مختلف مراحل میں کس طرح صحت کے کئی مسائل کی وجہ بن سکتا ہے؟ اسی لیے پلاسٹک کے زیادہ محفوظ متبادل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔
سی این این میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 50 کروڑ ٹن پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے اور اس میں سے 98 فیصد فوسل فیولز سے حاصل ہوتا ہے۔ پلاسٹک کے استعمال کو اگر محدود کرنے کے لیے زیادہ مؤثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو سال 2060 تک دنیا بھر میں اس کا استعمال تقریباً تین گنا ہونے کا امکان ہے۔
تاہم، مسئلہ صرف پلاسٹک کی پیداوار کی اس بڑی مقدار تک محدود نہیں۔ پلاسٹک میں ہزاروں مختلف کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کیمیکلز پلاسٹک کی مصنوعات سے نکل کر ہماری خوراک، پینے کے پانی اور سانس کے ذریعے ہمارے جسم میں پہنچ سکتے ہیں۔
آسٹریلیا کے فلاحی ادارے مائنڈرو فاؤنڈیشن میں پلاسٹک اور انسانی صحت کی شعبے کی سربراہ پروفیسر سارا ڈنلوپ کہتی ہیں کہ ’ہم اپنی مرضی یا رضامندی کے بغیر ہر روز پلاسٹک میں موجود کیمیکلز کی بڑی مقدار سے متاثر ہو رہے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا کو فوری طور پر پلاسٹک کے ایسے متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو فوسل فیولز سے تیار نہ ہوتے ہوں اور زیادہ محفوظ ہوں۔
پلاسٹک کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ حکومتیں عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں، محققین اس حوالے سے سائنسی شواہد جمع کر رہے ہیں جبکہ کمپنیاں پلاسٹک کے متبادل تیار کرنے میں مصروف ہیں۔
تاہم، مسئلے کو بڑے پیمانے پر حل کرنے کے لیے صرف اس نوعیت کے اقدامات کافی نہیں جو پلاسٹک کا کچرا پیدا ہونے کے بعد ہی کیے جائیں، مثلاً کچرا جمع کرنا اور اسے ری سائیکل کرنا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسئلے کو شروع ہی میں پیدا ہونے سے روکا جائے، یعنی نقصان دہ کیمیکلز کے استعمال کو کم کیا جائے، ان کے محفوظ متبادل تلاش کیے جائیں اور جہاں ضروری ہو وہاں اِن کے استعمال کے حوالے سے قواعد بنائے جائیں۔
پلاسٹک کی آلودگی سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ سامنے آ چکا ہے، لیکن حالیہ تحقیقی کوششوں میں پلاسٹک میں موجود کیمیکلز کے انسانی صحت پر اثرات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ یہ کیمیکلز پانی، خوراک اور ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں پہنچ سکتے ہیں اور یہ صحت کے مختلف مسائل کی وجہ بن رہے ہیں۔
سال 2024 میں مائنڈرو فاؤنڈیشن اور تحقیقی ادارے جے بی آئی نے ایک جامع تحقیقی جائزہ شائع کیا جس میں ایسی پلاسٹک کا جائزہ لیا گیا جس میں موجود کیمیکلز کا انسانوں سے عموماً زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔ اس جائزے میں ایسے مستقل اور قابلِ اعتماد شواہد سامنے آئے جو ان کیمیکلز کو صحت پر منفی اثرات سے جوڑتے ہیں۔

پلاسٹک میں ایسے ہزاروں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن کے انسانی صحت پر اثرات کا ابھی تک مکمل جائزہ نہیں لیا گیا (فوٹو: ہیلتھ ہیزرڈ)

اِن اثرات میں پیدائش کے وقت بچوں کی صحت، بچوں کی ذہنی اور اعصابی نشوونما، تولیدی صحت اور جسم کے میٹابولزم، ہارمونز اور غذائی نظام سے متعلق مسائل شامل تھے۔
امریکہ کے بوسٹن کالج کے اشتراک سے مزید تحقیق کے بعد سال 2026 میں ان نتائج کو اَپ ڈیٹ کیا گیا۔ اس میں تولیدی صحت اور حمل کے علاوہ مدافعتی نظام اور ہارمونز کے توازن پر اثرات کو بھی شامل کیا گیا۔
مائنڈرو فاؤنڈیشن کے فلم فنڈ ’مائنڈرو پکچرز‘ نے بھی اس مسئلے کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ’دی پلاسٹک ڈیٹاکس‘ اور ’دی پلاسٹک کنٹری‘ جیسی دستاویزی فلموں میں سرمایہ کاری کی، جن میں پلاسٹک میں موجود کیمیکلز اور پلاسٹک کی آلودگی کے انسانی صحت اور ماحول پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پروفیسر سارا ڈنلوپ کہتی ہیں کہ ’ہمیں پلاسٹک میں موجود کیمیکلز سے خود کو زیادہ سے زیادہ بچانا ہوگا۔ ان میں ایسے ہزاروں کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جن کے انسانی صحت پر اثرات کا ابھی تک مکمل جائزہ نہیں لیا گیا، حالانکہ ان کے زہریلے ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
اِن خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف پلاسٹک کے کچرے کو ٹھکانے لگانا کافی نہیں۔ اس کے لیے ایسے مواد کی طرف منتقلی بھی تیز کرنا ہوگی جو فوسل فیولز سے بننے والے پلاسٹک کی بجائے ابتدا ہی سے محفوظ اور ماحول دوست بنانے کے لیے تیار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے متبادل مواد پر تحقیق اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ضروری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے بھی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

حالیہ تحقیقی کوششوں میں پلاسٹک میں موجود کیمیکلز کے انسانی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے (فوٹو: سی این این)

اس مسئلے کو اس کی جڑ سے حل کرنے کی کوششوں کے تحت مائنڈرو فاؤنڈیشن ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جو زیادہ محفوظ مواد اور نئی ٹیکنالوجیز کو مارکیٹ میں متعارف کروا رہی ہیں۔ فاؤنڈیشن تکنیکی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے تحقیق کی معاونت بھی کر رہی ہے اور اعداد و شمار اور تحقیق کی بنیاد پر ایسی معلومات فراہم کر رہی ہے جو نئی ٹیکنالوجی کی تیاری اور پالیسی سازی میں مدد دے سکیں۔
سال 2022 سے فاؤنڈیشن ایک ایسے عالمی پلاسٹک معاہدے کی بھی حمایت کر رہی ہے جو قانون کے دائرۂ کار میں ہو اور جس میں انسانی صحت کے تحفظ اور پلاسٹک کی تیاری سے لے کر اس کے استعمال اور تلفی تک پورے عمل کو ضابطے میں لانے کو عالمی مذاکرات کا مرکزی موضوع بنایا جائے۔
یہ ضرورت اس لیے بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ پلاسٹک کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے بارے میں معلومات بہت محدود ہیں اور کیمیکلز کے غیرمحفوظ ہونے کی جانچ کرنے کے لیے موجود قوانین اور ضوابط میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔
نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے بھی پلاسٹک کے متبادل تلاش کرنے یا موجودہ پلاسٹک کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مثال کے طور پر اینزائیڈ ٹیکنالوجیز ایسے کیمیکلز تیار کر رہی ہے جو بایو پلاسٹک کے قدرتی طور پر گلنے سڑنے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔
اسی طرح کَلپانا سسٹمز ایسی کوٹنگ ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے جو کاغذ اور پیکیجنگ کے دیگر لچک دار مواد کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے بھی پلاسٹک کے متبادل تلاش کرنے یا موجودہ پلاسٹک کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں (فوٹو: میگنیفک)

مائنڈرو فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو جان ہارٹ مین کہتے ہیں کہ ’آپ جب یہ دیکھتے ہیں کہ پلاسٹک کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجی اور جدت کے لیے ہونے والی 82 فیصد سرمایہ کاری ایسے حل تلاش کرنے پر مرکوز ہے جو پلاسٹک تیار ہونے کے بعد اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر مرکوز ہے، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کے ذریعے پلاسٹک کی جگہ محفوظ اور پائیدار مواد متعارف کروانے اور موجودہ مواد کو بہتر بنانے کے لیے عالمی سطح پر تبدیلی لانے کی غیرمعمولی گنجائش موجود ہے۔
پلاسٹک کے کچرے کو ری سائیکل کرنے سے آگے بڑھنے کے لیے سائنسی شواہد، سرمایہ کاری اور ایسی باربط پالیسیوں کی ضرورت ہے جو مسئلے کو ابتدا ہی میں روکنے پر توجہ دیں۔ اس طرح زیادہ محفوظ اور پائیدار مواد کو بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جا سکتا ہے اور شروع ہی سے انسانی صحت اور ماحول کو پلاسٹک کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
عالمی رہنما اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران 22 سے 28 ستمبر 2026 تک ہونے والی اعلیٰ سطح کی مشاورتوں میں شرکت کے لیے جمع ہو چکے ہیں۔ یہ موقع پلاسٹک کے محفوظ اور پائیدار متبادل کی تیاری اور ان میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

شیئر: