جمعرات کی صبح جب سات سالہ رمیشا خان سکول کے لیے روانہ ہوئی تو اس کے پاؤں میں بالکل نئے جوتے تھے، وہ جوتے جو اس کے والد نے اسے حال ہی میں خرید کر دیے تھے۔
لیکن چند ہی گھنٹوں بعد رمیشا اس دنیا میں نہیں رہی۔ وہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے ہلاک ہونے والے 34 بچوں میں شامل تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق رمیشا کے والد اسماعیل خان پیشے کے لحاظ سے کپڑے کے تاجر ہیں۔ وہ جمعے کو سوگوار ماحول میں اپنی بیٹی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میں نے اسے نئے جوتے لے کر دیے تھے۔ اس نے اپنے پرانے جوتے کزن کو تحفے میں دے دیے اور جمعرات کو وہی نئے جوتے پہن کر خوشی خوشی سکول گئی۔‘
مزید پڑھیں
پشاور شہر کے علاقے دیر کالونی میں واقع ’الخیر ایجوکیشن سینٹر‘ کی چھت جب دھماکے سے نیچے گری تو اسماعیل اور ان کے بھائی خود ملبہ ہٹانے پہنچے۔
دونوں نے رمیشا کو ملبے تلے سے نکالا اور فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
غمزدہ والد نے کہا ‘وہ ہمیں بہت جلد چھوڑ کر چلی گئی۔‘
کھلونے، بکھری کتابیں اور چیخیں
حادثے کے مقام پر اب صرف سکول کے بستے، کھلی پڑی کتابیں اور ٹوٹی ہوئی میز کرسیاں بکھری ہوئی ہیں۔ یہاں تین کلاس رومز کے قریباً 110 بچے زیرِ تعلیم تھے۔
اس دلخراش واقعے میں 13 سال سے کم عمر کے 34 بچے اور ان کی ایک خاتون ٹیچر جان کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو ٹیموں اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ننگے ہاتھوں سے ملبہ ہٹایا اور خون میں لت پت بچوں کو اپنی گود میں اٹھا کر ایمبولینسز تک پہنچایا۔
ہسپتال حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 45 بچوں میں سے اکثر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ تین بچوں کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔
پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت بظاہر کمزور تھی اور چھت پر اضافی تعمیری مواد اور بوجھ کے باعث یہ دردناک حادثہ پیش آیا۔

انہوں نے بتایا کہ سکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تمام اسی نوعیت کی سکول عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ کا اعلان کیا ہے۔
’ہم نے تو اسے خواب پورے کرنے کے لیے بھیجا تھا‘
اس حادثے میں جان سے جانے والا ایک اور بچہ 13 سالہ محمد عامر تھا جس کا خواب ایک جید عالمِ دین بننا تھا۔
عامر کے 24 سالہ بڑے بھائی محمد ہارون نے روئٹرز کو بتایا ’ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اسے سکول بھیجنے کا انجام ایسا ہو گا۔ ہمیں یقین تھا کہ سکول ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ پڑھے گا، آگے بڑھے گا اور اپنے خواب پورے کرے گا۔‘

سات بہن بھائیوں میں عامر سب سے چھوٹا تھا جبکہ ہارون سب سے بڑا۔ حادثے کے وقت ہارون نے بھی مقامی افراد کے ساتھ مل کر گھنٹوں ملبہ ہٹانے اور بچوں کو نکالنے کا کام کیا۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان اپنی لگ بھگ 450 ارب ڈالر کی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔
اس صورتحال میں ملک کے لاکھوں غریب و متوسط طبقے کے خاندان سستے اور غیر معیاری نجی سکولوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ سکول اکثر پرانی، خستہ حال اور کرائے کی عمارتوں میں بغیر کسی حفاظتی اصولوں اور حکومتی نگرانی کے چلائے جاتے ہیں جس کے باعث ایسے المناک حوادث کا رونما ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔
رواں برس جون میں بھی مشرقی شہر لاہور کے ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔
’میں انہیں رخصت بھی نہ کر سکا‘
ایک مقامی مسجد کے 38 سالہ پیش امام مولانا ذاکر اللہ نے اس حادثے میں اپنے دو معصوم بیٹوں، 10 سالہ محمد اور 8 سالہ ابو بکر کو کھو دیا۔
انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا ’جب ہم واقعے کی جگہ پہنچے تو وہاں کا منظر دہلا دینے والا تھا۔ بچے ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے اور دھول کی وجہ سے کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا۔‘












