چکی کا پتھر اور چھلنی جو قدیم قصیم کی کہانی سناتی ہیں
منگل 20 اکتوبر 2026 19:30
یہ آلات سماجی اور معاشی ضروریات کا لازمی حصہ تھے ( فوٹو: ایس پی اے)
قصیم ریجن میں روایتی آلات اور اوزار قدیم دور میں روز مرہ کی زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں یہ محض گھریلو کام کے آلات ہی نہیں تھے بلکہ یہ سماجی اور معاشی ضروریات کا لازمی حصہ تھے جو مقامی وسائل کو استعمال کرنے اور انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں لوگوں کی ذہانت اور مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔
خوراک کی تیاری اور اناج کی پرسیسنگ کے لیے استعمال ہونے والی ضروری اشیا میں ’الرحی و المنخل‘ کا شمار انتہائی اہم آلات میں ہوتا تھا۔ دونوں اشیا دیگرعلاقوں کی طرح اہل قصیم کے بھی ہر گھرکی ضرورت سمجھی جاتی تھیں۔
ایس پی اے کے مطابق الرحی (ہاتھ کی چکی) اس کے ذریعے گندم و دیگر اناج کو پیسا جاتا تھا تاکہ اس کا آٹا بنایا جائے جبکہ المنخل (چھلنی) اس کے ذریعے پیسے ہوئے آٹے کو چھان کر صاف کیا جاتا تاکہ اس سے موٹے ذرات کو نکال کر انہیں دوبارہ الرحی یعنی چکی میں ڈالا جائے۔
جب تک علاقے میں جدید مشینیں اور برقی آلات کا رواج عام نہیں ہوا تھا اس وقت تک یہ دونوں اشیا ہر گھر کی ضرورت مانی جاتی تھیں تاہم آج یہ دونوں چیزیں عجائب گھروں اور ثقافتی مراکز میں رکھی جاتی ہیں جو عہدِ رفتہ کی طرزِ زندگی کی علامت کے طورپر موجود ہیں۔
علاقے کی ایک معمر خاتون ’عائشہ الناصر‘ نے بتایا ماضی میں الرحی گھر کا ایک اہم حصہ ہوا کرتا تھا جس کے ذریعے خواتین گندم، جو اور دیگر اناج کو پیسا کرتی تھیں۔ چکی پیسنا ایک محنت اور صبر طلب کام ہوا کرتا تھا بعض اوقات خاندان کے افراد مل کر اناج پیستے اورچھاننے کا کام کیا کرتے تھے۔

اس دور میں اگرچہ زندگی سادہ ہوا کرتی تھی، تاہم اس میں خاندان کے افراد کے باہمی تعاون سے گزارا کرتے تھے۔
عہدِ حاضر میں اگرچہ ان قدیم آلات کی ضرورت نہیں رہی تاہم ان کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے اب یہ میوزیم کے ساتھ روایتی تقریبات اور فیسٹیول میں نماوش کےلیے رکھی جاتی ہیں۔
