Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’لڑتے رہو!‘، 87 سالہ خاتون کی وفات جن کی بے دخلی نے سپین میں ملک گیر احتجاج کو جنم دیا

سپین میں مکانات کے سنگین بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سبب بننے والی 87 سالہ خاتون ماری کارمن اباسکال، کی بسترِ مرگ پر منتقل کیے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد موت ہو گئی ہے۔
میڈرڈ ٹیننٹس یونین کے مطابق ان کی وفات کے بعد دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماری کارمن اباسکال کو 23 ستمبر کو میڈرڈ کے مشہور ریٹیرو پارک کے قریب واقع ان کی اس رہائش گاہ سے نکال دیا گیا تھا جہاں وہ گزشتہ 70 برس سے مقیم تھیں۔ پولیس اور سوشل ورکرز نے انہیں سٹریچر پر ڈال کر گھر سے باہر منتقل کیا جس کے بعد وہ شدید انزائٹی اور نڈھال حالت میں ہسپتال داخل کرائی گئی تھیں۔
بدھ کو ان کی موت کی خبر عام ہوتے ہی دارالحکومت کے مرکزی چوک ’پوئیرتا ڈیل سول‘ سے پارلیمنٹ کی عمارت تک ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا گیا۔
مظاہرین ’یہ قدرتی موت نہیں، قتل ہے!‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
اگرچہ ان کی موت کی حتمی طبی وجہ کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا لیکن عوام میں اس حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مظاہرے میں شریک 36 سالہ داریو گومیز کا کہنا تھا ’یہ ایک ایسی موت تھی جسے آسانی سے روکا جا سکتا تھا۔ یہ واقعہ سپین میں رہائشی بحران کے المیے کی کی عکاسی کرتا ہے۔‘

سکرپٹ رائٹر گلیرمو روئیز نے کہا ’انہیں بہترین خراجِ تحسین یہی ہے کہ ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

میڈرڈ کے علاوہ بارسلونا میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
سیاسی زلزلہ اور قبل از وقت انتخابات
اس واقعے اور پارلیمنٹ کی جانب سے کرایوں میں کمی اور بے دخلیوں پر پابندی سے متعلق حکومتی آرڈیننس کی ناکامی کے بعد، ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے 29 نومبر کو قبل از وقت عمومی انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم سانچیز کی کوشش ہے کہ وہ اپنی حکومت پر شمالی افریقی علاقے سیوتا میں تارکینِ وطن کے بحران اور اپنی سوشلسٹ پارٹی و خاندان سے جڑے کرپشن کیسز سے توجہ ہٹا کر بڑھتے ہوئے کرایوں اور رہائشی بحران پر مرکوز کریں۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ماری کارمن اباسکال کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’ان تمام لوگوں کے لیے ہمدردی کے جذبات جو آج اس نقصان کو اپنا ذاتی دکھ سمجھ رہے ہیں۔‘
دوسری جانب اپوزیشن کی ’پیپلز پارٹی‘ کے سربراہ البرٹو نونیز فیجو نے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ’یہاں کوئی مہم، کوئی سیاسی جماعت یا دیگر مفادات نہیں ہونے چاہئیں۔ کسی کی موت کے موقع پر صرف احترام ہی معنی رکھتا ہے۔‘

ماری کارمن کو اس وقت گھر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا جب ایک انویسٹمنٹ فنڈ نے وہ عمارت خرید لی (فائل فوٹو: روئٹرز)

سرمایہ کار فنڈ اور 70 سالہ گھر کا چھن جانا
ماری کارمن کو اس وقت گھر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا جب ایک انویسٹمنٹ فنڈ نے وہ عمارت خرید لی۔ اگرچہ چند روز بعد ان کے وکیل نے نئے مالکان کے ساتھ ایک آٹھ سالہ معاہدہ طے کر لیا تھا جس کے تحت وہ پرانے کرائے پر ہی واپس رہ سکتی تھیں اور وہ صحت یاب ہو کر اس پر دستخط کرنے والی تھیں لیکن انہیں ہسپتال سے زندہ لوٹنے کا موقع نہ مل سکا۔
ان کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ ماری کارمن نے فرانسکو کے جابرانہ دورِ حکومت میں زندگی گزاری تھی جس نے ان کے مزاج کو ایک فائٹر بنایا۔’وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کا انصاف کا تصور بالکل واضح تھا اور وہ معاشرتی بیداری کا گہرا احساس رکھتی تھیں۔‘
مظاہرے میں موجود 31 سالہ ڈائریکٹر اور سکرپٹ رائٹر گلیرمو روئیز نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’انہیں بہترین خراجِ تحسین یہی ہے کہ ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں، ایک باوقار زندگی کے لیے لڑیں اور یہ یقینی بنائیں کہ جو ان کے ساتھ ہوا، وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔‘
ٹیننٹس یونین نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ماری کارمن کی آخری خواہش اور پیغام ’لڑتے رہو، اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہو‘ پر عمل کرتے ہوئے اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔

شیئر: