سراوات پروجیکٹ: دوسرا جہاز ’جلالہ الملک نیوم‘ سعودی بحریہ کے حوالے
سسٹمز کی تنصیب اور انٹیگریشن کا کام مملکت میں مکمل کیا جائے گا( فوٹو: ایس پی اے)
رائل سعودی نیول فورسز نے سپین کے شہر سان فریننڈو میں واقع ’نوا نتیا شپ یارڈ میں سراوات پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے جہاز ’جلالہ الملک نیوم‘ کو لانچ کیا ہے۔
ایس پی اے کے جہاز کے مختلف سسٹمز کی تنصیب اور انٹیگریشن کا کام سعودی عرب میں مکمل کیا جائے گا جس کے بعد مملکت کے پانیوں میں جہاز کے آزمائشی مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
اس عمل سے ٹیکنالوجی کی مملکت میں منتقلی اور شپ یارڈ انڈسٹری کو مملکت میں مقامی سطح پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
لانچنگ تقریب میں رائل سعودی نیول فورسز کے چیف آف سٹاف وائس ایڈمرل محمد عبدالرحمن الغریبی، سپین میں سعودی سفیر شہزادی ہیفا بنت عبدالعزیز بن عیاف، سپینیش کمپنی اور شپ یارڈ کے عہدیدار اور دونوں ملکوں کی نیول فورسز کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
چیف آف سٹاف وائس ایڈمرل محمد عبدالرحمن الغریبی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلح افواج، بالخصوص بحریہ کو سعودی قیادت اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی جانب سے ملنے والی مکمل سرپرستی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اس سپورٹ نے دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے، آپریشنل تیاریوں اور افادیت کو بڑھانے میں مدد دی ہے۔
انہوں نے سعودی عرب اور سپین کے مابین شراکت داری اور بحری صلاحیتوں کی ترقی میں اس کے کردار سراہا۔ اس منصوبے سے وابستہ انجینیئروں اور فنی ماہرین کی ٹیموں کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔
واضح رہے السروات منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ’ایوانتے 2200 ‘ کلاس کے تین کثیر المقاصد جنگی کارویٹ شامل ہیں جن کے نام ’سفینہ جلالۃ الملک المدینہ، سفینۃ جلالہ الملک نیوم اور سفینہ جلالۃ الملک العلا ہیں۔
یہ مرحلہ منصوبے کے پہلے مرحلے کا تسلسل ہے جس کے تحت پانچ جنگی جہاز تیار کرکے سعودی شاہی بحریہ کے حوالے کیے گئے۔

منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے جہاز فضائی، سطحی اور زیر آب خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جس کے لیے انہیں جدید ترین سسٹم سے لیس کیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں ایک جامع لاجسٹک پیکیج، عملے کے تربیتی پروگرام اور 100 سے زائد سعودی انجینیئروں کو کوالیفائیڈ بنانے کا منصوبہ شامل ہے۔
