Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حماس حملے کے بعد اسرائیل میں پہلے انتخابات کے لیے ووٹنگ

انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو امریکہ اور صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلق کو اجاگر کرتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں پہلی بار ہونے والے انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے جس میں ووٹر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دائیں بازو کی طرف بڑھتی سیاست پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔
عرب نیوز کے مطابق اسرائیل میں قریباً 73 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور صبح سات بجے شروع ہونے والا پولنگ کا سلسلہ رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔
تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو کو اپنے اہم حریف اور اعتدال پسند رہنما گادی آئزن کوٹ سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ووٹرز 2023 میں فلسطینی تنظیم حماس کے حملوں، غزہ اور ایران کے ساتھ جنگوں اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کے تناظر میں ان کی قیادت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں اور وہ 19 سال اقتدار میں گزار چکے ہیں اور اب بھی مخالف جماعتوں کے لیے مضبوط حریف ہیں۔
ان کے طویل دور اقتدار کے دوران اسرائیل میں قوم پرست سیاست کی جڑیں مزید گہری ہو چکی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں میں تقسیم کے باعث انہیں دوبارہ حکومت بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے سامنے آیا ہے کہ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کے درمیان سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم مخالف اتحاد سے سخت مقابلہ متوقع ہے۔
آئزن کوٹ سخت سکیورٹی پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور ان کے اتحاد کو دائیں بازو اور اعتدال پسند سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔

الیکشن میں مدمقابل دونوں رہنماؤں پر فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزامات لگتے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اتحاد کو پیش کر رہے ہیں جبکہ امریکی صدر نے کھل کر ان کی حمایت کی ہے۔
اتوار کو اپنی مہم کے دوران نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں رہے تو ٹرمپ ایران کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے دوبارہ کارروائی کرنے کو تیار ہیں۔
دوسری جانب آئزن کوٹ نے نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں خوف پھیلانے کے لیے جھوٹ اور دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ عوام کے منتخب کردہ کسی بھی رہنما کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لیے ایک بار پھر دائیں بازو کے سخت گیر رہنماؤں ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموترچ کی حمایت درکار ہو سکتی ہے۔

نیتن یاہو کو گادی آئزن کوٹ کی سربراہی میں قائم اتحاد کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان دونوں رہنماؤں پر فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور بعض مغربی ممالک نے ان پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بن گویر کی جماعت جیوئش پاور پارٹی کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نیتن یاہو کے پاس ہے اور نہ ہی گادی آئزن کے پاس، اگر دونوں میں سے کوئی بھی 120 نشستیں رکھنے والی اسرائیلی پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اتحاد قائم نہ کر سکا تو نیتن یاہو ایک ایسی عبوری حکومت کی قیادت کر سکتے ہیں جو اگلے سال ہونے والے نئے انتخابات تک کام کرے گی۔

شیئر: