Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دماغی صلاحیتوں اور صحت میں بہتری کے لیے موسیقی سننا کیوں ضروری ہے؟

کلاسیکی اور مقبول موسیقی سننے سے پارکنسنز کے مریضوں کی نقل و حرکت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے (فوٹو: گیٹ لاؤڈ سٹے لاؤڈ)
 کلاسیکی اور مقبول موسیقی سننے سے یائی بلڈ پریشر میں کمی، سرجری کے دوران درد کش ادویات کی ضرورت کم کرنے اور پارکنسنز کے مریضوں کی نقل و حرکت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ جلد کے بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن سیلولائٹس کے بار بار لوٹ آنے سے بچاؤ کے لیے بھی طویل المدتی اینٹی بایوٹکس اور کمپریشن جرابیں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق طبی مسائل کے علاج میں ادویات کے علاوہ متبادل طریقوں اور خاص طور پر موسیقی کے استعمال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں موسیقی کے صحت پر اثرات اور سیلولائٹس کے دوبارہ ہونے سے بچاؤ کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق باخ، موزارٹ، ویوالدی اور چائیکووسکی جیسے موسیقاروں کی کلاسیکی دُھنیں سننے سے ہائی بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ موسیقی کا پُرسکون اثر آپریشن سے پہلے بے چینی کم کرنے کے لیے سکون آور ادویات کی ضرورت کم کرنے کے علاوہ گھٹنے کی تبدیلی اور پروسٹیٹ و موتیے کی سرجری کے دوران درد کش ادویات کے استعمال میں بھی کمی لا سکتا ہے۔
کولوراڈو سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل تھاؤٹ کے مطابق موسیقی میں مشغول ہونے سے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس عمل کو نیوروپلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے، جس کے تحت قریبی اعصابی خلیے متاثرہ اعصاب کے بعض افعال سنبھال سکتے ہیں۔
رپورٹ میں پارکنسنز کے مریضوں کے لیے موسیقی سننے کے فوائد کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ موسیقی کی باقاعدہ تال مریضوں کے قدم گھسیٹ کر چلنے اور اچانک حرکت رُک جانے جیسی علامات کم کرنے، توازن بہتر بنانے اور چلتے وقت قدم آگے تک اُٹھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
لوسرن یونیورسٹی کی پروفیسر روز ڈان کی سربراہی میں ایک منصوبے کے تحت ’پلے لسٹ فار پارکنسنز‘  فہرست مرتب کی گئی ہے، جس میں مریضوں کی جانب سے موڈ اور حرکت بہتر بنانے کے لیے تجویز کردہ 100 مقبول دُھنیں اور گیت شامل ہیں۔ اِن میں بیتھوون کی پانچویں سمفنی، مینڈلسن کی ’ہیبرائیڈز اوورچر‘، ہینڈل کا ’مسیحا‘ اور دیگر مقبول موسیقاروں کے گیت شامل ہیں۔

طبی مسائل کے علاج کے لیے ادویات کے علاوہ متبادل طریقوں اور خاص طور پر موسیقی کے استعمال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے (فوٹو: میوزک تھیراپی)

رپورٹ کے دوسرے حصے میں سیلولائٹس کے بار بار ہونے کے مسئلے کا ذکر ہے۔ اِس کے مطابق ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک روزانہ پینسلین کی کم خوراک لینے سے انفیکشن کی واپسی تقریباً دو تہائی تک کم ہو سکتی ہے، تاہم طویل استعمال سے متلی اور اسہال جیسے مضر اثرات ہو سکتے ہیں اور دوا بند کرنے کے بعد حفاظتی اثر جلد کم پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کمپریشن جرابیں ٹانگوں میں سوجن کم کرنے اور انفیکشن دوبارہ ہونے کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم بعض افراد انہیں پہننے میں تکلیف محسوس کر سکتے ہیں۔

شیئر: