Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’الملواح‘: حدود شمالیہ میں فالکن کو شکار کی تربیت دینے کا روایتی طریقہ

ابتدا میں پرندے کو کم فاصلے سے مشق کرائی جاتی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدود شمالیہ ریجن کے صحرا میں ان دنوں موسمِ خزاں کے دوران فالکنز کو تربیت دینے کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔
فالکنز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والا روایتی اوزار ’الملواح‘ بنیادی اہمیت کا ہے۔ اس کے ذریعے فالکن کو شکار کی تربیت دی جاتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق فالکن کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے الملواح سے نکلنے والی آوازیں فالکن کی پرواز تیز کرنے، واپس لوٹنے اور رخ بدلنے کے لیے رہنمائی کرتی ہیں۔
الملواح عموماً پرندوں کے پروں کو چمڑے کے ایک ٹکڑے نصب کرکے تیار کیا جاتا ہے جسے رسی کے ذریعے ہوا میں گھمایا جاتا ہے۔
اس طرح یہ شکار کی حرکت کی نقل کرتا ہے اور پرندے میں جھپٹنے کی جبلت کو تحریک ملتی ہے، اس کے ساتھ  فالکن کی رفتار اور رد عمل کو بھی بہتر بنایا جاتا ہے۔

اس کے موثر استعمال کے لیے تربیت دینے والے کی مہارت، درست وقت اور مناسب فاصلے کا تعین اہم ہوتا ہے۔
ابتدا میں پرندے کو کم فاصلے سے مشق کرائی جاتی ہے، بعدازاں اس کی کارکردگی بہتر ہونے پر فاصلہ بتدریج بڑھایا جاتا ہے۔
مطلوبہ رد عمل کی حوصلہ افزائی کے لیے انعام کے طور پر پرندے کی پسندیدہ خوراک دی جاتی ہے جسے حاصل کرکے شکاری پرندہ مزید مستعدی سے پرواز کرتا ہے۔

جدید تربیتی طریقوں کے باوجود الملواح شکاری پرندوں کی تربیت میں اہمیت کا حامل ہے۔
صحرائی مقامات پر اس کے ذریعے ہونے والی مشقیں نہ صرف تجربہ کار شکاریوں کی مہارت کا مظاہرہ کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو بازوں اور شاہینوں کی تربیت، ان کے رویوں اور اس روایتی شوق سے وابستہ تجربات سے آگاہ کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔

 

شیئر: