Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صحرائے الحماد میں باز پروروں کی آمد، حدود شمالیہ فالکنری سیزن کے لیے تیار

صحرائے الحماد بازوں کے سالانہ ہجرت کے راستے میں ایک اہم پڑاؤ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
حدود شمالیہ ریجن اکتوبر کے اوائل میں فالکنری کے سیزن کے آغاز کی تیاریاں کر رہا ہے، جب ہجرت کرنے والے باز اس علاقے سے گزرتے ہیں اور سعودی عرب و خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے فالکنرز اور شکاریوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق حدود شمالیہ ریجن میں واقع الحماد صحرا بازوں کے سالانہ ہجرت کے راستے میں ایک اہم پڑاؤ ہے۔
اس مدت کے دوران صحرا میں فالکنری کے شائقین کی قابلِ ذکر آمد دیکھنے میں آتی ہے جہاں خاص طور پر پیری گرن باز متحرک ہوتے ہیں۔ باز پکڑنے والے شکاری سیزن کی تیاری کے لیے کیمپ لگاتے ہیں، اپنے آلات تیار کرتے ہیں اور بازوں کے گزرنے کی امید میں صحرائی سفر کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ ایک پرانی روایت ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔
سیزن قریب آتے ہی عرعر میں آؤٹ ڈور سامان کی مارکیٹوں میں سرگرمی بڑھ جاتی ہے کیونکہ فالکنرز خیمے، کیمپنگ کا سامان، صحرائی سفر کی اشیاء اور فالکنری کی ضرورت کی چیزیں خریدتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی مانگ سے سیزن سے منسلک تجارتی سرگرمیوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

فالکنری سے متعلق یہ سرگرمی مختلف سروس سیکٹرز تک بھی پھیل جاتی ہے جن میں گیس سٹیشنز، ریستوران، رہائشی سہولیات اور خوراک فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں۔
یہ خدمات خطے میں مسافروں اور وہاں قیام کرنے والے وزیٹرز کی ضروریات پوری کرتی ہیں جس سے سیزن کی معاشی سرگرمی صحرائی سائٹس سے شہری علاقوں کی مارکیٹوں اور سروس فراہم کرنے والوں تک پھیل جاتی ہے۔

فالکنری حدود شمالیہ ریجن کے سماجی اور ثقافتی ورثے میں نمایاں مقام رکھتی ہے جو بازوں اور صحرائی زندگی سے وابستہ روایات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ سیزن فالکنرز اور شائقین کو ایک جگہ جمع کرتا ہے اور جب یہ پرندے اس خطے سے سالانہ ہجرت کرتے ہیں تو ان کے تجربات اور معلومات کا تبادلہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

 

شیئر: