Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آٹھ سال میں 30 لاکھ اموات، ماحولیاتی تبدیلی کو’عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال‘ قرار دینے کا مطالبہ

رواں موسم گرما میں یورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کو شدید گرم موسم کا سامنا رہا: فوٹو اے ایف پی
برطانوی طبی جریدے میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی سے ہونے والی اموات میں اضافے کے پیش نظر اسے ’عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال‘ قرار دینے کی ضرورت ہے تاکہ حکومتیں اپنی پالیسیوں میں اس خطرے سے نمٹنے کو ترجیح دیں۔
بدھ کو برطانوی طبی جریدے ’دی لینسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں نومبر میں ہونے والے کوپ 31 ماحولیاتی سربراہی اجلاس سے قبل جاری ہونے والی اس رپورٹ میں 30 ممالک کے 146 محققین نے دنیا بھر کی آبادی کی صحت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق 2023 میں شدید گرمی سے ریکارڈ سات لاکھ 10 ہزار اموات ہوئیں، جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ کا تعلق انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی سے تھا۔
صحت اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیقی منصوبے ’لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مرینا رومانیلو نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ 2015 میں پیرس معاہدے کے بعد آٹھ برس کے دوران دنیا بھر میں شدید گرمی سے 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
ان کے بقول، ’یہ تعداد تقریباً ویلز کی پوری آبادی کے برابر ہے، گویا آٹھ برس کے دوران گرمی نے ایک پورے ملک کی آبادی ختم کر دی ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ان اموات میں سے 68 فیصد کی براہ راست وجہ ماحولیاتی تبدیلی تھی۔
2015 میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں طے پانے والے قانونی طور پر پابند عالمی معاہدے کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کافی نیچے رکھنا اور اسے 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے صحت پر اثرات
مرینا رومانیلو کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایسا مربوط نظام ضروری ہے جو ہر نئے بحران کے بعد ہنگامی اقدامات کرنے کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی پر مبنی ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو ممالک کو مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تیار کریں، ان کی صلاحیت بڑھائیں اور انہیں مزید ہنگامی صورتحال سے بچنے کے قابل بنائیں۔
سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر اولی جے نے بتایا کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی سے منسوب اموات کا اندازہ لگانے کے لیے محققین نے مختلف ممالک میں شدید گرمی سے ہونے والی اموات کا ڈیٹا جمع کیا اور پھر ان اموات کو منہا کیا جو ماحولیاتی تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں بھی متوقع تھیں۔
ان کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی نے شدید گرمی کے ادوار کی شدت اور تکرار دونوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دنیا کی نصف سے زیادہ زمینی سطح کو کم از کم ایک ماہ تک شدید خشک سالی کا سامنا رہا۔
عالمی معیشت کو بھاری نقصان

ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہر برس عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث کارکنوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جس سے گزشتہ تین برس کے دوران عالمی معیشت کو سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔
جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطے رہے، جہاں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں نقصان بالترتیب 3.9 اور 3.2 فیصد رہا۔ اس کے برعکس یورپ میں یہ شرح 0.2 فیصد اور امریکہ کے براعظموں میں 1.5 فیصد رہی۔
تاہم رپورٹ میں بعض شعبوں میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ 2016 کے بعد سے عالمی ادارۂ صحت کے 194 رکن ممالک میں سے 56 نے شدید موسمی واقعات کی پیش گوئی اور ان سے نمٹنے کے لیے اپنے صحت کے نظام اور قبل از وقت انتباہی نظام کو بہتر بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں صاف توانائی پر سرمایہ کاری 2.1 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی، جو فوسل فیولز پر ہونے والی سرمایہ کاری سے دو گنا زیادہ تھی۔ فوسل فیولز میں کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس شامل ہیں، جن کا استعمال ماحولیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کے باوجود دنیا کی مجموعی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد اب بھی فوسل فیولز سے پورا ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی ہر سال 27 لاکھ 30 ہزار اموات کا سبب بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو ممالک کو مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تیار کریں، ان کی صلاحیت بڑھائیں: فائل فوٹو اے ایف پی

دوسری جانب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016 کے بعد سے کم از کم 77 ممالک میں فوسل فیولز سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں کمی کے باعث تقریباً تین لاکھ 23 ہزار اموات کو روکا جا چکا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور صحت سے متعلق تحقیق کے لیے فنڈنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور 2024 میں یہ بڑھ کر 31 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2016 کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے۔
تاہم ان فنڈز میں سے 84 فیصد امیر ممالک کے محققین کو ملتے ہیں، حالانکہ ماحولیاتی تبدیلی سے صحت کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا کم ترقی یافتہ ممالک کو ہے۔
رومانیلو نے بتایا کہ رواں سال پہلی مرتبہ محققین کو بعض اہم ڈیٹا ذرائع کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں امریکہ سے متعلق کچھ معلومات بھی شامل ہیں، خصوصاً فوسل فیولز پر دی جانے والی سبسڈیز کا ڈیٹا، جسے امریکی حکام نے عوامی سطح پر جاری نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران عالمی سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے صحت پر اثرات پس منظر میں چلے گئے ہیں، جبکہ اس معاملے پر عدم توجہی صورت حال کو مزید خراب کر رہی ہے۔

شیئر: