سعودی طلبہ کی کاوش، ’سمندر کی گہرائی، دباؤ اور درجہ حرارت ریکارڈ کرنے والا آلہ تیار‘
سعودی طلبہ کی کاوش، ’سمندر کی گہرائی، دباؤ اور درجہ حرارت ریکارڈ کرنے والا آلہ تیار‘
بدھ 28 اکتوبر 2026 9:30
الزہرانی نے بتایا کہ یہ ڈیوائس موٹر اور مکینیکل ڈرائیو سے جڑی سرنج کے ذریعے کام کرتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے پانچ طلبہ نے ایک ایسا تیرتا ہوا آلہ تیار کیا ہے جو سادہ اور کم لاگت نظام کی مدد سے سمندر میں خودکار طور پر نیچے جاتا ہے اور دوبارہ سطح پر آتا ہے۔ یہ آلہ سمندر کی گہرائی، دباؤ اور درجہ حرارت کا ریکارڈ بھی محفوظ کرتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان پانچ طلبہ میں بندر خالد الزہرانی، یوسف العتیبی، عبدالسلام الفيفی، زياد الشمرانی اور علی السياری شامل ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو ابتدائی خیال سے لے کر منصوبہ بندی، ابتدائی ڈیزائن اور آلے کی تیاری تک پہنچانے میں چھ سے سات ماہ صرف کیے۔
یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ میں مکینیکل انجینیئرنگ کے 24 سالہ طالب علم الزہرانی نے ٹیم کی طرف سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد ایک ایسے چھوٹے آلے کی مدد سے سمندر کی مختلف گہرائیوں سے ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے جو خودکار طور پر اوپر اور نیچے حرکت کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نظام سائنسدانوں، ماحول کی نگرانی اور سمندری معلومات جمع کرنے والے اداروں اور پانی کے اندر کام کرنے والے روبوٹس اور تحقیقاتی آلات تیار کرنے والی تحقیقی ٹیموں کے کام آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر مستقبل میں اس ڈیوائس کو مزید تیار کیا جائے اور اس کی عملی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے تو اس کا استعمال توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں میں سمندری ماحول کی نگرانی کے لیے، سروے سے متعلقہ سرکاری اداروں اور ساحلی ترقی کے بڑے منصوبوں تک پھیل سکتا ہے۔‘
الزہرانی نے مزید کہا کہ ٹیم نے یہ آئیڈیا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب کی سمندری صنعت کو فروغ دینے کے وژن کے مطابق تیار کیا۔
اس تیرتے ہوئے آلے کے مرکز میں ایک سرنج موجود ہے۔ الزہرانی نے بتایا کہ ’یہ ڈیوائس موٹر اور مکینیکل ڈرائیو سے جڑی سرنج کے ذریعے تیراکی کے نظام پر کام کرتی ہے تاکہ سسٹم کے اندر پانی کی مقدار کو تبدیل کر کے اس کی اوپر اور نیچے کی حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔‘
الزہرانی کے مطابق یہ کام ٹیم کی انتھک کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا (فوٹو: عرب نیوز)
دوسرے الفاظ میں یہ آلہ اپنے اندر پانی کی مقدار کو تبدیل کر کے نیچے بیٹھتا یا اوپر آتا ہے جس کی وجہ سے مختلف گہرائیوں پر معلومات ریکارڈ کرنے کے لیے پروپیلرز کو مسلسل چلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جاننے کے لیے کہ یہ آلہ پہلے سے موجود سسٹمز سے کتنا بہتر ہے، اس کا تجربہ کرنا ہوگا اور لاگت، معلومات کی درستگی، توانائی کے استعمال اور مختلف حالات میں اس کی کارکردگی کا موازنہ کرنا پڑے گا۔
الزہرانی نے کہا کہ انہوں نے مکینیکل انجینیئرنگ کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہ نظریاتی علم کو عملی تجربے سے ملاتا ہے اور سسٹمز بنانے، ان کے عمل کو سمجھنے اور انہیں حقیقی دنیا کے مسائل کے حل میں بدلنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ منصوبہ پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش تھی اور ہر رکن نے اس کام پر اپنا نقش چھوڑا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کام ایک ایسی ٹیم کی انتھک کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا جس پر مجھے فخر ہے اور وہ تمام شکریہ اور تعریف کے مستحق ہیں۔‘
اس ڈیوائس کے مرکز میں ایک سرنج موجود ہے (فوٹو: عرب نیوز)
اس ڈیوائس نے اس سال کی میٹ آر او وی ورلڈ چیمپئن شپ برائے انڈر واٹر روبوٹکس میں پہلی بار عوامی سطح پر نمائش کی جس میں دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔
طلبہ نے کے اے یو کی نمائندگی کرنے والی ٹیم ریڈ سی روورز کے حصے کے طور پر پروفیسر نضال ابو حمدہ اور پروفیسر عمار ملیباری کی نگرانی میں پائلٹ کیٹیگری میں مقابلہ کیا۔ اس ٹیم نے فائنلز میں عالمی سطح پر ساتویں پوزیشن حاصل کی۔