دو گھنٹے، 16 منٹ اور 58 سیکنڈ میں سعودی ایتھلیٹ علی الشھرانی نے نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا۔ الہلال ایتھلیٹکس کلب اور سعودی قومی ٹیم کے ایتھلیٹ علی الشھرانی نے 2025 میں ویلنسیا میراتھن میں پہلی بار سعودی قومی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 2026 کی برلن میراتھن میں انہوں نے اپنے سابقہ وقت میں 10 سیکنڈ کی کمی کرتے ہوئے نیا ریکارڈ بنا دیا۔
اب اس ایتھلیٹ کی نظریں لاس اینجلس اولمپکس پر جمی ہوئی ہیں۔ لیکن الشھرانی اپنے کیریئر کے اس مقام تک کیسے پہنچے اور وہ اولمپک کے لیے کوالیفائی کرنے کا معیار حاصل کرنے کے لیے اپنے وقت میں مزید کمی کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں؟
الشھرانی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ایک رنر کے طور پر اپنے 20 سال کے دوران مجھے لگتا ہے کہ میں نے کینیا میں گزشتہ تین سالوں کے دوران ہی صحیح معنوں میں منظم تربیت کا تجربہ حاصل کیا۔‘
مزید پڑھیں
-
سعودی ایتھلیٹ خواتین نے 12 تمغے جیت لیےNode ID: 459446
-
سعودی ایتھلیٹ یاسمین الدباغ کا ٹوکیو اولمپکس میں یادگارسفر ختمNode ID: 587196
-
ٹوکیو پیرا اولمپکس میں سعودی ایتھلیٹ کی چھٹی پوزیشنNode ID: 594971
انہوں نے کہا کہ ’کینیا کے میرے تجربے نے مجھے باقاعدہ گروپ ٹریننگ، نظم و ضبط اور ایک ایسے ماحول کی اہمیت دکھائی جہاں دوڑنا روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔‘
الشھرانی نے بتایا کہ سعودی عرب میں میراتھن رنرز کے لیے تربیتی پروگراموں کی کمی کے باعث وہ مقابلوں کی تیاری اور تربیت کے لیے بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں جس کے اخراجات انہیں ذاتی طور پر برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ’ایک اعلیٰ سطح کے ایتھلیٹ کے طور پر میرے سفر میں جسمانی اور مالی، دونوں اعتبار سے بہت زیادہ ذاتی محنت اور قربانی درکار رہی ہے جس کے بیشتر اخراجات اور ذمہ داریاں میں نے خود ہی اٹھائی ہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ ’میرا خیال ہے کہ سعودی عرب میں بھی اسی طرح کے تربیتی مواقع اور سہولیات فراہم کرنے سے ہمارے ایتھلیٹس کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی ایتھلیٹکس فیڈریشن اس وقت مملکت کے تمام علاقوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور انہیں ترقی دینے کے لیے کام کر رہی ہے اور میرے خیال میں اس حوالے سے اس کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔‘
سعودی ریکارڈ ہولڈر نے اپنی پہلی میراتھن کو یاد کیا جب انہیں آخری 10 کلومیٹر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے جوتوں کی وجہ سے چھالے اور چوٹیں آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صحیح سامان کے استعمال سے اب بڑا فرق آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پانچ میراتھن میں حصہ لینے کے بعد میں نے پوما کے سپورٹس گیئر، خصوصاً ’فاسٹ آر نائٹرو ایلیٹ تھری‘ استعمال کرنا شروع کیا تو اپنی کارکردگی میں واضح فرق محسوس کیا۔‘
علی الشھرانی سعودی عرب کے لیے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں تاہم مملکت میں ابھی تک میراتھن دوڑ کو وہ مقبولیت حاصل نہیں جو دنیا کے دیگر کئی ممالک میں ہے۔ لیکن ان کے لیے ہمیشہ سے اصل کشش میراتھن کے مقابلوں میں حصہ لینا ہی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جس چیز نے مجھے سب سے پہلے دوڑنے کی طرف راغب کیا وہ مقابلے کا جذبہ تھا خاص طور پر دنیا بھر کی میراتھن میں حصہ لینے کا منفرد احساس۔ ہر دوڑ میرے لیے خود کو چیلنج کرنے اور یہ دیکھنے کا ایک موقع ہے کہ میں کتنی دور جا سکتا ہوں۔‘
الشھرانی اس بات پر بھی پُرامید ہیں کہ مجموعی طور پر سعودی کھیل ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔
ایتھلیٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں کھیلوں کے مختلف شعبوں میں سعودی چیمپیئن سامنے آئیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزارت کھیل کی جانب سے اقدامات جاری ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ مسلسل کوششیں کھیلوں کے ماحول کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کریں گی۔‘












