رشراش: جازان کی خواتین کا ’من پسند روایتی چاندی کا ہار‘
رشراش شادی بیاہ کی قدیم رسومات میں دلہن کو سنوارنے میں استعمال ہوتا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
خواتین کو سجنے سنورنے کا شوق ہمیشہ سے ہی رہا ہے۔ ہر علاقے اور دور میں زیورات خواتین کے لیے اہمیت کے حامل رہے ہیں۔
جازان ریجن میں روایتی زیورات خواتین کی ماضی کی سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس دور میں چاندی سے بنے زیورات خواتین کے من پسند مانے جاتے تھے جنہیں سماجی زندگی میں نمایاں مقام حاصل تھا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان زیورات میں ’رشراش‘ جسے مقامی زبان میں ’اللبہ‘ کہا جاتا ہے سرفہرست تھا جو نسل درنسل چلا آرہا ہے۔ یہ چاندی سے بنا ایک ایسا زیور ہے جسے خواتین گلے میں پہنتی ہیں۔ اپنی خوبصورتی اور ثقافتی اہمیت کے باعث اس کی قدر کی جاتی ہے، اس کی جڑیں معاشرے کی روایات اور ورثے میں بہت گہری ہیں۔
جازان کی خواتین کے زیورات میں ہار، بالیاں، کنگن اور بازو اور پاؤں میں پہنے والے مختلف زیورات شامل تھے۔ ان میں ہر زیور کو اس کی شکل اور پہننے کی جگہ کے اعتبار سے مقامی نام دیا جاتا ہے۔
رشراش عام طور پر شادی بیاہ کی قدیم رسومات میں دلہن کو سنوارنے میں استعمال ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ دیگر چاندی کے زیورات بھی استعمال کیے جاتے تھے جو مجموعی طورپر دلہن کے روایتی سنگھار کا حصہ ہوتے تھے۔

جازان کے دیگر معروف زیورات میں ’الشیلہ‘ کانوں کی بالیاں، ’الشمایل‘ ہاتھوں میں پہننے والے کنگن، الجوادل یا الاوضاح‘ بازو پر پہنے والے موٹے نقش دار چاندی کے زیورات، ’الحجول‘ پاؤں کے اوپری حصے پر پہنے والے زیورات ہوتے ہیں اس کے علاوہ ’الفتخہ‘ پاوں کی انگلی میں پہنی جاتی ہے۔
خواتین کا بناؤ سنگھار صرف چاندی کے زیورات تک محدود نہیں تھا بلکہ کاجل، مہندی، خوشبو، بالوں کی آرائش کا سامان اور مقامی نباتات بھی زیبائش کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔

کادی اور خطور کے پھول خاص طور پر تقریبات میں سر کی زیبائش کے لیے استعمال ہوتے تھے یوں قدرتی ماحول بھی خواتین کی روز مرہ زندگی اور سماجی تقریبات کا حصہ بن جاتا تھا۔
تھامہ کے پہاڑی اور میدانی علاقوں تک یہ زیورات اور آرائشی اشیا جازان کی خواتین کے ثقافتی ورثے کا اہم جز رہی ہیں۔ ان کے مختلف ناموں، اشکال اور استعمال کے طریقوں کو محفوظ کرنا اس روایتی عوامی علم کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

رشراش آج بھی جازان کی قدیم خواتین کی زندگی، رسومات اور چاندی کے زیورات سے وابستہ ثقافتی ورثے کی ایک نمایاں علامت ہے۔
مقامی خواتین خاص مواقع پر اپنے بالوں کو سجانے کے لیے مقامی پودوں اور پھولوں کا بھی استعمال کرتی تھیں۔ یہ تمام طریقے قدررتی ماحول سے گہرا تعلق رکھتے تھے کیونکہ یہی ماحول انہیں وہ پودے اور اشیا فراہم کرتا تھا جو خواتین اپنی روز مرہ کی زندگی اور سماجی اجتماعات میں استعمال کرتی تھیں۔
